مضامین بشیر (جلد 2) — Page 740
مضامین بشیر ۷۴۰ تھا۔چنانچہ یہ قافلہ دو بجے بعد دو پہر قادیان پہنچ گیا۔اور سب سے پہلے بہشتی مقبرہ میں جا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار پر دعا کی۔جہاں قادیان کے بہت سے دوست قافلہ کے استقبال کے لئے پہنچے ہوئے تھے۔ایک طرف تو بچھڑے ہوئے بھائیوں سے ملاقات دوسری طرف قادیان کا ماحول اور تیسری طرف بہشتی مقبرہ کا مقام ان سب باتوں نے مل کر اس دعا میں وہ سوز و گداز پیدا کر دیا جو اہل قافلہ کی رپورٹ کے مطابق صرف دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔بہر حال ہمارے یہ دوست ۳۰ / دسمبر کی صبح تک قادیان میں ٹھہرے اور جلسہ کی شرکت کے علاوہ جو حسب دستور ۲۶ - ۲۷ - ۲۸ تاریخوں میں مقرر تھا ان ایام کو مقامات مقدسہ میں خاص دعاؤں اور عبادت میں گزارا اور سب واپس آنے والے دوست بلا استثناء کہتے ہیں کہ قادیان کے جملہ درویش اپنی جگہ نہائت قربانی اور للہیت کے جذبہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے اوقات دعاؤں اور نوافل سے اس طرح معمور ہیں جس طرح ایک عمدہ اسفنج کا ٹکڑا پانی سے بھر جاتا ہے اور سب در ولیش یہ عزم رکھتے ہیں کہ خواہ موجودہ حالات میں ان کا قادیان کا قیام کتنا ہی لمبا ہو جائے وہ انشاء اللہ پورے صبر اور استقلال اور قربانی کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم رہیں گے بلکہ ان میں سے بعض نے اس بات پر حیرت ظاہر کی کہ جب ہم خود انتہائی خوشی اور رضا اور عزم کے ساتھ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے بعض پاکستانی رشتہ داروں کو ہماری وجہ سے کوئی گھبراہٹ ہو۔قادیان کے قیام کے دوران میں ہمارے دوستوں کو ان ہندوستانی احمدیوں کی ملاقات کا بھی موقعہ ملا جو ہندوستان کے مختلف صوبوں سے جلسہ کی شمولیت کے لئے قادیان آئے تھے۔اور ان میں محتر می شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی حیدر آباد دکن اور چوہدری انور احمد صاحب کا ہلوں امیر جماعت احمد یہ کلکتہ اور مولوی بشیر احمد صاحب امیر جماعت دہلی اور حکیم خلیل احمد صاحب مونگھیری اور سیٹھ محمد اعظم صاحب تاجر حیدر آباد دکن اور سید ارشد علی صاحب ارشد تا جرلکھنو اور مولوی محمد سلیم صاحب مبلغ مغربی بنگال بھی شامل تھے اور تین دوست کشمیر سے بھی آئے تھے۔ان ایام میں قادیان کے ہندوؤں اور سکھوں نے پاکستانی اور ہندوستانی زائرین اور بعض درویشوں کو چائے کی دعوت دی اور اس موقعہ پر ہمارے کئی دوستوں نے جن میں شیخ بشیر احمد صاحب امیر قافلہ پاکستان اور شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور حکیم خلیل احمد صاحب مونگھیری شامل تھے دعوت دینے والوں کا شکر یہ ادا کرنے کے علاوہ مناسب رنگ میں تبلیغ بھی کی اور ہمارا جلسہ تو گویا مجسم تبلیغ ہی تھا کیونکہ اس میں بیشتر تعداد غیر مسلموں کی شامل ہوئی تھی۔اور وہ سب ہمارے مقررین کی تبلیغی تقریروں کو نہائت درجہ توجہ اور سکون سے سنتے رہے بلکہ وہ اس بات کو سخت حیرت کے ساتھ۔