مضامین بشیر (جلد 2) — Page 739
۷۳۹ مضامین بشیر ۱۹۵۰ء قافلہ قادیان کے مختصر کوائف جیسا کہ احباب کو معلوم ہے قادیان جانے والے قافلہ کے لئے قریباً ۴۰۰ درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔جن میں سے حکومت کی مقرر کردہ حد بندی کے ماتحت صرف پچاس اصحاب کا انتخاب کرنا تھا چنانچہ پچاس افراد کا انتخاب کر کے انہیں اطلاع دی گئی کہ ۲۴ دسمبر کی شام تک سب لوگ لاہور پہنچ جائیں۔چنانچہ یہ جملہ پچاس افراد ۲۴ / دسمبر کی شام تک لاہور پہنچ گئے۔ان میں تین بوڑھی دیہاتی عورتیں بھی شامل تھیں جو مقدس مقامات کی زیارت کے علاوہ اپنے بچوں کو ملنے کے لئے جارہی تھیں جو اس وقت قادیان میں درویشی زندگی بسر کر رہے ہیں۔حسن اتفاق سے حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بھی ایک تقریب کے تعلق میں ۲۴ / تاریخ کی شام کو لاہور تشریف لے آئے اور قافلہ کی روانگی کے خیال سے ۲۵ / تاریخ کی صبح کو بھی لاہور میں ٹھہر گئے۔چنانچہ حضور کی نہایت دردمندانہ اور پرسوز دعاؤں کے ساتھ یہ پچاس افراد قافلہ ہر یکے موٹر ٹرانسپورٹ کمپنی کی لاریوں میں لاہور سے روانہ ہوا۔یہ قافلہ رتن باغ سے ۲۵ / تاریخ کی صبح کو بجے روانہ ہوا اور قافلہ کی کل تعداد ۴ ۵ تھی۔کیونکہ پچاس ممبران قافلہ کے علاوہ دوڈرائیور اور دو کنڈیکٹر بھی اس قافلہ میں شامل تھے۔رستہ میں کچھ وقت رکنے کے بعد قافلہ قریباً ساڑھے دس بجے بارڈر پر پہنچا جہاں مسٹر اے جی چیمہ مجسٹریٹ درجہ اول اور مسٹر ایس ایس جعفری ڈپٹی کمشنر لا ہورا نہیں رخصت کرنے کے لئے پہلے سے پہنچ چکے تھے۔قافلہ کو الوداع کہنے کے لئے بہت سے دوست بارڈر تک ساتھ گئے۔ان لوگوں میں یہ خاکسار بھی شامل تھا۔اور وہاں ہم سب نے روانگی کی آخری دعا کر کے اپنے بھائیوں کو رخصت کیا۔میری گھڑی کے مطابق ہمارے قافلہ نے دس بجگر پینتیس منٹ پر پاکستان اور ہندوستان کی سرحد کو عبور کیا اور پھر ہم تھوڑی دیر تک ان کی لاریوں کو دیکھتے ہوئے اور دعا کرتے ہوئے لا ہو روا پس آگئے۔یا کہ پہلے سے پروگرام مقرر تھا اس قافلہ نے ۲۵ / دسمبر کو قادیان جا کر ۳۰ / دسمبر کو واپس آنا