مضامین بشیر (جلد 2) — Page 722
مضامین بشیر ۷۲۲ ایک دوست کے استفسار کا جواب استخارہ والے مضمون کا تمہ چند دن ہوئے میرا ایک مضمون اسلام میں استخارہ کے بابرکت نظام کے متعلق الفضل میں شائع ہوا تھا اس کے متعلق مجھے ایک معزز غیر احمدی دوست کی طرف سے یہ سوال موصول ہوا ہے کہ استخارہ کی دعا کس وقت پڑھنی چاہئے ؟ آیا نفل ادا کرنے کے بعد یا کہ نماز کے اندر اور اگر نماز کے اندر پڑھنی چاہئے تو آیا الحمد للہ اور سورہ اخلاص کے بعد پڑھنی چاہئیے یا کہ تشہد اور درود شریف کے بعد۔اس سوال کے جواب میں مختصر طور پر جاننا چاہئے کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے حدیث میں اس کے متعلق کوئی صراحت نہیں پائی جاتی کہ استخارہ کی دعا نماز کے اندر پڑھی جائے یا کہ اس کے بعد لیکن چونکہ اسلام میں اصولی طور پر دعا کا اصل موقع نماز کے اندر مقرر کیا گیا ہے ، حتی کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ : الدعاء من العبادة در یعنی دعا عبادت کی جان ہے ، جس کے بغیر عبادت یعنی نما ز ایک ایسی ہڈی 66 کا رنگ رکھتی ہے جس کے اندر کوئی گودہ نہ ہو۔اس سے ظاہر ہے کہ دعا کا اصل موقع نماز ہے جب کہ انسان گویا خدا کے دربار میں حاضر ہوکر اپنے معروضات پیش کرتا اور خدا کے فضل و رحمت کا طالب بنتا ہے۔اسی لئے اسلام نے نماز کے آغاز و انجام کو دو نہایت اہم اصولی دعاؤں کے ساتھ گھیر رکھا ہے۔یعنی شروع میں سورہ فاتحہ کی دعا رکھ دی گئی ہے جو ساری دعاؤں کی سرتاج ہے اور آخر میں درود کی دعا ر کھی گئی ہے کہ وہ بھی سورۃ فاتحہ کے بعد مبارک ترین دعاؤں میں سے ہے اور نماز کے درمیانی حصوں میں بھی تسبیح و تحمید کے درودوں کے ساتھ ملا کر مختلف دعائیں مقرر کر دی گئی ہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ استخارہ کی دعا کا اصل موقع نماز کے اندر ہے نہ کہ نماز کے بعد وهو المراد اب رہا یہ سوال کہ استخارہ کی دعا نماز میں کس موقع پر پڑھی جائے ؟ سو اس کے متعلق حدیث میں یہی اشارہ پایا جاتا ہے کہ یہ دعا نماز کے اختتام پر یعنی تشہد اور درود کے بعد آخری قعدہ میں پڑھنی