مضامین بشیر (جلد 2) — Page 723
۷۲۳ مضامین بشیر چاہئے کیونکہ استخارہ والی حدیث میں آنحضرت علیہ فرماتے ہیں کہ نماز کے مقررہ ارکان سے فارغ ہونے کے بعد استخارہ کی دعا پڑھنی چاہئے۔چنانچہ صحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں : فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل - ۱۹۳ یعنی استخارہ کرنے ولے کو چاہئے کہ دورکعت نفل نماز کے ارکان مکمل کر کے پھر سلام پھیر نے سے قبل استخارہ کی دعا پڑھے اور عقلاً بھی استخارہ کی دعا کا یہی موقع مناسب ہے کہ دو رکعت نماز نفل کے اختتام پر سلام پھیرنے سے قبل پڑھی جائے کیونکہ یہ وہ دعا ہے جس کے بعد دعا مانگنے والے کے دل و دماغ پر تا وقتیکہ وہ کسی دوسرے کام میں مصروف ہو جائے ، اس دعا کا غلبہ رہنا چاہئے تا کہ وہ خدا کے فضل و رحمت کا زیادہ سے زیادہ جاذب بن سکے اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی کیفیت پیدا کرنے کے لئے نماز کا آخری حصہ ہی مناسب ہے۔اقی یہ بات میں اپنے گذشتہ مضمون میں واضح کر چکا ہوں کہ فوری ضرورت کے وقت نماز استخارہ ہر وقت ادا کی جاسکتی ہے۔اور ضروری نہیں کہ اس کے لئے لازماً سونے سے پہلے کا وقت انتخاب کیا جائے البتہ اگر معاملہ فوری نہ ہو اور فرصت کے ساتھ دعا مانگی جا سکے تو سونے سے پہلے کا وقت سب سے زیادہ مناسب ہے ظاہر ہے کہ انسان کو کئی قسم کے کام پیش آسکتے ہیں۔بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے اختیار کرنے سے قبل کافی عرصہ سوچنے اور غور کرنے کامل جاتا ہے۔ایسی صورتوں میں جیسا کہ ایک حدیث میں اشارہ پایا جاتا ہے بہتر یہی ہے کہ سات راتوں تک مسلسل بستر پر جانے سے پہلے استخارہ کی نماز پڑھی جائے پھر بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ اس میں زیادہ فرصت کا موقع تو نہیں ہوتا لیکن دو چار دن کی مہلت ضرور ہوتی ہے۔ایسے موقعوں پر بہتر ہے کہ تین دن یا کم از کم ایک دن ( جیسی بھی صورت ہو ) سونے سے قبل استخارہ کیا جائے مگر بعض کام ایسے بھی ہو سکتے ہیں کہ ان میں فیصلہ کرنے کے لئے ایک رات کا وقفہ بھی نہیں ملتا ایسی صورتوں میں دن کے کسی حصہ میں دو نفل نماز پڑھ کر استخارہ کی دعا کی جاسکتی ہے اور ہمارے آقا آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ استخارہ کے بعد خواہ کوئی خواب وغیرہ نہ بھی آئے تب بھی مومن کو چاہئے کہ جس طرف بھی خدا اس کا دل مائل کر دے اس طرف خدا پر توکل کرتے ہوئے قدم اٹھا لے مگر استخارہ دل کی سختی کو صاف کر کے پاک نیت کے ساتھ ہونا چاہئے تا کہ کوئی نفسانی خیال روک نہ بن جائے۔بالآخر میں یہ بھی ذکر کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ میرے استخارہ والے مضمون کے متعلق میرے پاس ایک احمدی دوست کا بھی خط آیا ہے، اور انہوں نے اس معاملہ میں اپنا ایک دلچسپ ذاتی تجربہ بھی لکھا ہے چنانچہ یہ دوست لکھتے ہیں کہ :