مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 716 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 716

مضامین بشیر رکھنے والوں سے بڑھ کر علیم اور تمام طاقت رکھنے ولوں سے بڑھ کر قدیر ہے۔قتل الانســـــان ما اكفره۔بالآخر میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ گو حدیث میں استخارہ کی دو نفل نماز کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا ، مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کے لئے رات کو سونے سے پہلے کا وقت زیادہ مناسب خیال فرماتے تھے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ بہتر صورت یہ ہے کہ جب کسی شخص نے استخارہ کرنا ہو تو رات کو سونے سے قبل وضو کر کے دو رکعت نماز نفل ادا کرے اور اس نماز میں نہایت توجہ اور عاجزی اور تضرع کے ساتھ استخارہ کی دعا کر کے سو جائے اور اس نماز کے بعد حتی الوسع کسی سے بات نہ کرے ، اور اگر ممکن ہو تو سونے سے پہلے لیٹے لیٹے بھی یہ دعا کرتا رہے نیز فرماتے تھے کہ اگر کسی کو مسنون دعا نہ یاد ہو۔تو وہ اس مفہوم کے مطابق اپنی زبان میں ہی دعا مانگ لے اور اس کے بعد یہ الفاظ کہے کہ : ياخبير اخبرنی د یعنی اے میرے خبیر و علیم آقا تو اس معاملے میں میری راہنمائی کر اور مجھ پر اپنی منشاء ظاہ فرما دے۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص سچی تڑپ اور دلی خلوص کے ساتھ اس طریق کو اختیار کرے گا۔اس پر یا تو خدا تعالیٰ خواب وغیرہ کے ذریعہ اپنا منشاء ظاہر فرما دے گا اور یا عملاً اس کی ایسی دستگیری فرمائے گا کہ وہ اس معاملے میں ٹھوکر کھانے سے محفوظ ہو جائے گا۔اب صرف یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ استخارہ کتنے دن ہونا چاہئے ؟ سو زیادہ بہتر اور مبارک طریق تو یہ ہے کہ اہم امور میں سات دن تک مسلسل استخارہ کیا جائے لیکن اگر اس کا موقع نہ ہو۔تو کم از کم تین دن تو ضرور استخارہ ہونا چاہئے لیکن اشد مجبوری کی صورت میں ایک دن بھی ہو سکتا ہے اور اگر کسی ناگزیر وجہ سے درمیانی وقفہ ایک رات کا بھی میسر نہ ہو تو پھر لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وَسْعَهَا اصول کے ماتحت استخارہ والی دعا دن رات کے کسی حصہ میں فوری طور پر بھی پڑھی جاسکتی ہے کیونکہ اگر ہمارا خدا انسان کی بہتری کے لئے اسی پر ایک ذمہ داری ڈالتا ہے تو دوسری طرف وہ اس کی مجبوریوں کو بھی جانتا ہے اور یہ بات ہمارے رحیم و کریم آقا سے بعید ہے کہ وہ ایک حقیقہ مجبور انسان کو محض کسی رسمی بات کی بنا پر اپنی رحمت سے محروم کر دے واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين ( مطبوعه الفضل ۴ رنومبر ۱۹۴۹ء)