مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 702 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 702

مضامین بشیر ۷۰۲ باہر نہیں اور آپ کی لائی ہوئی شریعت دائمی ہے جسے کوئی دور کا قانون منسوخ نہیں کر سکتا اور چونکہ خدا بھی ساری دنیا کا واحد خدا اور واحد خالق و مالک ہے اور تمام قو میں اور تمام زمانے اسی کے پیدا کئے ہوئے اور اسی کے قبضہ تصرف میں ہیں اس لئے مانا پڑے گا کہ توحید کے حقیقی فلسفہ کے ماتحت صرف وہی نبوت بالذات کے طور پر مقصود ہو سکتی ہے جس کا دامن ساری قوموں اور سارے زمانوں پر وسیع ہو اور باقی سب نبوتیں جو مکانی اور زمانی قیود میں محدود ہیں اور وہ اس عالمگیر نبوت کے لئے بطور تیاری اور زینے کے کبھی جائیں گی اور در حقیقت نظام نبوت کے متعلق یہی اسلام کا وہ مرکزی نظریہ ہے جو اوپر والی حدیث میں اشارۃ بیان کیا گیا ہے۔چونکہ اوائل میں نسل انسانی اپنے ذہنی ارتقاء اور تمدن اور وسائل کے لحاظ سے بالکل ابتدائی حالت میں تھی۔اس لئے خدا نے ہر قسم اور ہر زمانہ میں علیحدہ علیحدہ رسالت کے ذریعہ ان کی ہدایت کا انتظام فرمایا۔اسی لئے قرآن شریف فرما تا ہے کہ: إنْ مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ - ۸۸ یعنی دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جس کی طرف ہم نے اپنے اپنے وقت میں کوئی منذر نہ بھیجا ہو۔“ ان قومی رسولوں کے بھیجنے سے خدا تعالیٰ کی غرض یہ تھی کہ ایک تو ہر قوم کو اپنے زمانہ کے مناسب حال ہدایت نصیب ہو جائے اور دوسرے دنیا کو آہستہ آہستہ تیار کر کے اس عالمگیر اور دائمی شریعت کی طرف لایا جائے ، اور اس کے قابل بنایا جائے جو محمد رسول اللہ علیہ کے ذریعہ عالم وجود میں آنے والی تھی۔پس آنحضرت ﷺ سے پہلے مبعوث ہونے والے نبیوں کی نبوتیں دراصل ایسے زمینوں کا رنگ رکھتی تھیں جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ نبوت کے منصب کو ختم نبوت کے بلند مینا رتک پہنچانا چاہتا تھا ، تا کہ جس طرح خدا ایک ہے اسی طرح دنیا کے لئے اس کا ہدایت نامہ بھی ایک ہوا اور اس ہدایت کا لانے والا بھی ایک۔اور یہی اس حدیث کا بنیادی مفہوم ہے کہ: كنت نبيا و آدم بين الماء والطين د یعنی میں اس وقت سے نبی ہوں کہ ابھی آدم بھی اپنی پیدائش کے مراحل میں مٹی اور پانی کے اندر محصور تھا۔“ گویا آدم علیہ السلام آئے اور گو وہ اپنے زمانہ کے لوگوں کے لئے ایک ابتدائی قسم کی ہدایت بھی لائے مگر دراصل وہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کے لئے میدان صاف کرنے اور پہلا زینہ بننے کے لئے آئے تھے۔پھر نوح علیہ السلام آئے اور گو وہ اپنی قوم کے لئے ہدایت بھی لائے مگر دراصل وہ