مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 701 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 701

مضامین بشیر ساتھ ایک گہرا تعلق ہے مگر اس سے یہ استدلال کرنا کہ گویا سابقہ انبیاء نے بھی نبوت کا درجہ آنحضرت کی وساطت سے پایا تھا درست نہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیان کردہ نظر یہ بھی اس کے خلاف ہے۔کیونکہ حضور نے تکرار اور صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ گذشتہ تمام نبی مستقل نبی تھے یعنی انہوں نے کسی دوسرے نبی کی اتباع یا وساطت سے نبوت کا درجہ نہیں پایا بلکہ براہ راست حاصل کیا تھا اور اگر ان میں سے بعض نبی بعض دوسرے نبیوں کے ماتحت تھے اور ان کی شریعت کے تابع تھے جیسا کہ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد آنے والے نبی جو بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے وہ موسوی شریعت کے ماتحت تھے لیکن پھر بھی وہ مستقل نبی تھے۔کیونکہ انہوں نے نبوت کا درجہ کسی دوسرے نبی کی وساطت کے بغیر پایا تھا۔پس جب ان نبیوں کو اپنے متبوع نبی کی پیروی کے باوجود مستقل نبی قرار دیا گیا ہے ( یادر ہے کہ یہاں مستقل“ کا لفظ عارضی کے مقابل پر نہیں ہے بلکہ دوسرے کی وساطت کے بغیر اپنی ذات میں قائم ہونے کے معنوں میں ہے ) تو پھر ان کے متعلق یہ کس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی وساطت سے نبوت کا درجہ پایا تھا۔اب رہا یہ سوال کہ اگر اوپر والی حدیث کے وہ معنی نہیں ہیں جن کی نسبت ہمارے حیدر آبادی دوست کا خیال گیا ہے۔تو پھر اس کے صحیح معنی کیا ہیں ؟۔سواس کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ اس حدیث کے اصل معنوں کی کنجی اس حدیث میں ہے جہاں آنحضرت علیہ فرماتے ہیں کہ : كان النبي يبعث الى امة خاصة وبعثت الى الناس عامة د یعنی مجھ سے پہلے ہر نبی اپنی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور اس کا پیغام ساری قوموں کے لئے نہیں ہوتا تھا لیکن میں سب بنی نوع انسان کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔اور میرا پیغام ساری دنیا کے واسطے ہے۔“ ۱۸۷ اور دوسری جگہ فرماتے ہیں : أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَا تَيْنِ یعنی میں اور قیامت اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں کہ جس طرح میری یہ دونوں انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں اور فرماتے ہوئے آپ نے اپنی دوانگلیاں کھڑی کر کے ایک دوسرے کے ساتھ پیوست کر دیں )۔ان حدیثوں سے ثابت ہے کہ جہاں پہلے نبیوں کا پیغام زمانہ اور قوم کے لحاظ سے محدود ہوتا تھا وہاں آنحضرت ﷺ کا پیغام ان دونوں حد بندیوں سے آزاد ہے۔یعنی پہلے نبی صرف خاص خاص قوموں کی طرف اور خاص خاص زمانوں کے لئے آتے تھے مگر ہمارے آقا علم کی بعثت ساری قوموں اور سارے زمانوں کے لئے ہے گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن عالمگیر ہے جس سے کوئی قوم