مضامین بشیر (جلد 2) — Page 700
مضامین بشیر آنحضرت ﷺ کی نبوت نظام نبوت کا معراج ہے ایک حیدر آبادی دوست کا سوال اور اس کا جواب حید آباد دکن سے ایک دوست نے ایک سوال لکھ کر بھیجا ہے اور خواہش ظاہر کی ہے کہ اس سوال کا جواب اخبار الرحمت میں شائع کرا دیا جائے۔مگر میں اس نوجوان کے سوال کا جواب الفضل اور الرحمت دونوں میں بھجوا رہا ہوں مگر مجھے افسوس ہے کہ آجکل طبیعت کی خرابی اور کام کی کثرت کی وجہ سے میں زیادہ تفصیل کے ساتھ نہیں لکھ سکتا۔صرف مختصر طور پر سوال اور اس کا جواب درج ذیل کئے دیتا ہوں۔اس دوست کا سوال یہ ہے کہ ایک حدیث میں رسول کریم علیہ نے فرمایا ہے کہ میں اس وقت سے خاتم النبین ہوں جبکہ آدم مٹی اور کیچڑ میں تھا۔کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ رسول کریم ﷺ سے پہلے جتنے انبیاء گذرے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے براہ راست نبوت کا درجہ پانے والے نہیں تھے؟ کیونکہ خاتم النبین تو آدم علیہ السلام سے بھی پہلے سے موجود تھے۔“ سواس کے جواب میں جاننا چاہئے کہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ( کیونکہ اس وقت میرے پاس اس حوالہ کے اصل الفاظ موجود نہیں ہیں ) اس حدیث میں ” خاتم النبین“ کے الفاظ نہیں آتے بلکہ صرف نبی کا لفظ آتا ہے اور غالباً حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ : كنت نبيا و آدم بين الماء والطين۔۸۵ دو یعنی میں اس وقت سے نبی ہوں کہ جبکہ آدم بھی ابھی تک پانی اور مٹی میں تھا۔“ یعنی ابھی تک آدم کی پیدائش بھی تکمیل کو نہیں پہنچی تھی۔سو ہمارے دوست کے بیان میں غالباً ” خاتم النبیین“ کا لفظ درست نہیں ہے لیکن اگر اس حدیث میں یہ الفاظ ہوں بھی تو پھر بھی اصل حقیقت پر اثر نہیں پڑتا کیونکہ اس حدیث کے وہ معنی نہیں ہیں جو ہمارے دوست نے خیال کئے ہیں۔بلکہ یہ حدیث ایک اور لطیف مضمون کی طرف اشارہ کرنے کے لئے بیان کی گئی ہے۔بیشک با لواسطہ طور پر اس حدیث کو ” خاتم النبیین‘ کے مضمون کے