مضامین بشیر (جلد 2) — Page 686
مضامین بشیر ۶۸۶ مسجد ربوہ کا سنگ بنیاد اور اس تقریب کا عقبی منظر الفضل ۶ را کتوبر ۱۹۴۹ء میں مسجد ربوہ کے سنگ بنیاد کی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ایسے موقعے قوموں کی تاریخ میں خاص موقعے ہوا کرتے ہیں اور ان کی تاریخ کو محفوظ رکھنا قومی زندگی کے لئے ضروری ہوتا ہے۔اس لئے یہ امر باعث خوشی ہے کہ الفضل نے اس موقع پر اپنا خصوصی نمائندہ بھجوا کر اس مبارک تقریب کی رپورٹ الفضل میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے، لیکن مجھے افسوس ہے کہ جس رنگ میں یہ رپورٹ شائع ہوئی ہے اس میں اس تقریب کی اصل روح کو نمایاں کرنے کی بجائے لفاظی سے زیادہ کام لیا گیا ہے۔بے شک لفظی حسن کو ملحوظ رکھنا بھی ایک حد تک ضروری اور مناسب ہوتا ہے اور قرآن شریف نے اسے بدرجہ احسن ملحوظ رکھا ہے۔لیکن الفاظ کی جھاڑی میں الجھ کر اصل روح کی طرف سے غافل ہو جانا ہر گز کوئی خوبی کی بات نہیں سمجھی جاسکتی۔الفضل کی اس رپورٹ سے میرے دل پر یہی اثر پڑا ہے کہ رپورٹ لکھنے والے صاحب نے جو بھی وہ ہوں غالبا لفظوں کا انتخاب پہلے کیا ہے اور معانی کو ان کے بعد رکھا ہے گویا لفظوں کا انجن آگے آگے چلا ہے اور معانی کی گاڑی اس کے پیچھے گھسٹتی آئی ہے۔دینی تحریرات میں یہ اسلوب یقینا پسندیدہ نہیں اور ضروری ہے کہ اصل توجہ واقعہ کی روح کی طرف دی جائے۔اور اس روح کو اتنا نمایاں کر کے ابھارا جائے کہ ہر پڑھنے والے کے دل و دماغ پر پہلا اثر روح کے حسن کا پڑے اور الفاظ کا حسن صرف ایک ضمنی بات سمجھی جائے۔یہی ہمارے قرآن کریم کا انداز ہے اور یہی ہمارے اہل قلم دوستوں کے لئے بہترین اسوہ ہونا چاہئے۔خیر یہ تو محض ایک ضمنی بات تھی جو برسبیل تذکرہ عرض کر دی گئی۔اصل بات جو میں اس موقع پر کہنا چاہتا ہوں وہ اس تقریب کے عقبی منظر سے تعلق رکھتی ہے جیسا کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی طرف سے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے الفضل میں اعلان کیا تھا اس موقع پر حضور کا منشاء یہ تھا کہ