مضامین بشیر (جلد 2) — Page 672
مضامین بشیر اور حضرت سیدہ ام ناصر احمد صاحبہ اور شائد ایک دو بچیاں ساتھ تھیں۔اور حضور کے پیچھے دوسری موٹر میں حضرت صاحب کی بعض دوسری صاحبزادیاں اور ایک بہو اور بعض بچے اور میاں محمد یوسف صاحب پرائیویٹ سیکرٹری سوار تھے۔تیسری موٹر میں سیدہ بشری بیگم مہر آپا صاحبہ اور محترمہ ام وسیم احمد صاحبہ اور بعض دوسرے بچے تھے اور ان کے پیچھے چوتھی موٹر میں خاکسار مرزا بشیر احمد اور میرے اہل وعیال اور عزیزہ آمنہ بیگم سیال اور محترمی چوہدری عبدالحمید صاحب سپرنٹنڈنٹ انجینئر اور میاں غلام محمد صاحب اختر اے۔پی۔اوسوار تھے، شاہدرہ سے کچھ آگے نکل کر حضرت صاحب نے اپنی موٹر کو روک کر انتظار کیا کیونکہ ابھی تک تیسری موٹر نہیں پہنچی تھی۔اور کچھ وقت انتظار کرنے کے بعد آگے روانہ ہوئے ایک لاری اور دو ٹرک کافی عرصہ بعد روانہ ہوئے۔رتن باغ سے روانہ ہونے سے پہلے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہدائت فرمائی تھی کہ سب لوگ رتن باغ سے روانہ ہوتے ہوئے اور پھر ربوہ کی سرزمین میں داخل ہوتے ہوئے یہ قرآنی دعا جو آ نحضرت ﷺ کو مدینہ کی ہجرت کے وقت سکھلائی گئی تھی پڑھتے جائیں یعنی : رَبِّ ادْخِلُنِى مُدْخَلَ صِدْقٍ وَاَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَ اجْعَلْ لِي مِن لَّدُنْكَ سُلْطَنَّا نَّصِيرًا ZA چنانچہ اس دعا کے ورد کے ساتھ قافلہ روانہ ہوا۔اور راستہ میں بھی یہ دعا برابر جاری رہی۔چونکہ روانگی میں دیر ہو گئی تھی اس لئے موٹریں کافی تیز رفتاری کے ساتھ گئیں اور سفر کا آخری حصہ تو غالبا ستر پچھتر میل فی گھنٹہ کی رفتار سے طے ہوا ہوگا اور اسی غرض سے رستہ میں کسی جگہ ٹھہرا بھی نہیں گیا۔یہی وجہ ہے کہ محترمی شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمد یہ لاہور کی موٹر جو لا ہور سے قریباً ڈیڑھ گھنٹہ پہلے روانہ ہوئی تھی اور اس میں محترمی مولوی عبد الرحیم صاحب درد بھی بیٹھے ہوئے تھے وہ بھی رستہ میں ہی ربوہ کے قریب چناب کے پل پر مل گئی تھی یہ گویا اس سفر کی پانچویں موٹر تھی۔اس کے علاوہ ایک چھٹی موٹر بھی تھی جس میں محترمی ملک عمر علی صاحب رئیس ملتان اور ہمارے بعض دوسرے عزیز بیٹھے تھے لیکن یہ موٹر چونکہ بعد میں چلی اور زیادہ رفتار بھی نہیں رکھ سکی اس لئے وہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے ربوہ میں داخل ہونے کے کچھ عرصہ بعد پہنچی۔چناب کا پل گزرنے کے بعد جس سے آگے ربوہ کی سرزمین کا آغاز ہوتا ہے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنی موٹر سے اتر آئے اور دوسرے سب ساتھی بھی اپنی اپنی موٹروں سے اتر آئے۔البتہ مستورات موٹروں کے اندر بیٹھی رہیں۔اس جگہ اتر کر بعض دوستوں نے اعلان کی غرض سے اور اہل ربوہ تک اطلاع پہنچانے کے خیال سے ریوالور اور رائفل کے کچھ کا رتوس ہوا میں