مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 671 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 671

۶۷۱ مضامین بشیر تاریخ احمدیت کا ایک یادگاری دن حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کا سفر ر بوہ یوں تو حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کئی دفعہ ربوہ تشریف لے جاچکے ہیں۔اور گذشتہ جلسہ سالانہ بھی ربوہ میں ہی منعقد ہوا تھا جبکہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے مع اہل وعیال کئی دن تک ربوہ میں قیام فرمایا تھا لیکن یہ سب سفر عارضی رنگ رکھتے تھے اور ابھی تک حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی مستقل سکونت رتن باغ لاہور میں ہی تھی لیکن جوسفر 9 ستمبر ۱۹۴۹ کو بروز دوشنبه اختیار کیا گیا وہ ربوہ کی مستقل رہائش کی غرض سے تھا ، گویا دوسرے الفاظ میں یہ ہماری قادیان سے ہجرت کی تکمیل کا دن تھا جبکہ خلیفہ وقت اور امام جماعت قادیان سے باہر آنے کے بعد اپنی عارضی رہائش گاہ سے منتقل ہو کر جماعت احمدیہ کے قائمقام مرکز ربوہ میں رہائش رکھنے کی غرض سے تشریف لے گئے۔پس یہ دن جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ایک یادگاری دن تھا۔اور میں امید کرتا تھا کہ الفضل کی طرف سے اس سفر کی رپورٹ تیار کرنے کا کوئی انتظام کیا گیا ہوگا لیکن چونکہ آج تک ایسی کوئی رپورٹ میری نظر سے نہیں گزری۔اس لئے میں مختصر طور پر اس سفر کے چشم دید حالات تاریخ احمدیت کو ضبط میں لانے کی غرض سے درج ذیل کرتا ہوں۔دراصل گومیرا دفتر ابھی تک لاہور میں ہے مگر میں نے اس سفر کی تاریخی اہمیت کو محسوس کر کے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں انشاء اللہ اس سفر میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ جاؤنگا۔اور سفر اور ربوہ کی دعا میں شریک ہو کر اسی دن شام کو لاہور واپس پہنچ جاؤں گا۔چنانچہ خدا نے مجھے اس کی توفیق دی۔جس کے نتیجہ میں میں ذیل کی چند سطور ہدیہ ناظرین کرنے کے قابل ہوا ہوں۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تو یہ تھا کہ انشاء اللہ ۱۹ ر ستمبر ۱۹۴۹ء کو صبح آٹھ بجے لا ہور سے روانگی ہوگی مگر دفتری انتظام کے نقص کی وجہ سے یہ روانگی وقت مقررہ پر نہیں ہوسکی۔چنانچہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ آٹھ بجے صبح کی بجائے دس بجکر پچاس منٹ پر یعنی قریباً گیارہ بجے رتن باغ لاہور سے بذریعہ موٹر روانہ ہوئے۔حضور کی موٹر میں حضرت ام المومنین اطال اللہ بقائها