مضامین بشیر (جلد 2) — Page 55
۵۵ مضامین بشیر د یعنی فرعون نے بھاگتے ہوئے بنی اسرائیل کا پیچھا کیا تا کہ انہیں ہجرت کر جانے سے زبر دستی رو کے مگر اس کا یہ فعل خدائی قانون کے خلاف ایک کھلی کھلی بغاوت تھا اور وہ عدل و انصاف کی تمام حدود کو تو ڑ کر آگے نکل جانا چاہتا تھا۔“ بلکہ یہ فعل اس قدر ظالمانہ ہے کہ فرعون کے جن سپاہیوں نے اس تعاقب میں حصہ لیا وہ بھی خدا کی نظر میں باغی اور عادی قرار پائے جیسا کہ جُنُودُہ کے لفظ سے ظاہر ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ بعض حالات میں آمر کے ساتھ مامور بھی قابل مواخذہ ہوتا ہے۔مندرجہ بالا بحث سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ جب تک کوئی حکومت ملک کی تمام آبادی کو زیر کر کے یا منوا کر اپنا سکہ قائم نہیں کر لیتی اور اسے ملک میں استحکام حاصل نہیں ہو جا تا اس وقت تک وہ ملک کی قائم شدہ حکومت نہیں سمجھی جاسکتی اور اس کے خلاف حسب ضرورت لڑنا جائز ہے اور اسی اصل کے ماتحت یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ ملک کی حکومت کے لئے یہ بھی جائز نہیں ہے کہ اپنی رعایا کی مرضی کے خلاف اسے از خود کسی دوسری حکومت کے سپرد کر کے آپ الگ ہو جائے۔کیونکہ اس صورت میں بھی نئی حکومت ملک کی تسلیم شدہ حکومت نہیں سمجھی جائے گی۔خلاصہ کلام یہ کہ مسلمانوں کے لئے خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کے علاوہ صرف ایسی حکومت کی اطاعت فرض قرار دی گئی ہے جو ان کی تسلیم شدہ ہو۔خواہ وہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی لیکن جب ایک دفعہ مسلمان ایک حکومت کو قو لا یا عملاً تسلیم کرلیں تو پھر اس کے خلاف بغاوت کرنا ان کے لئے جائز نہیں رہتا۔سوائے اس کے کہ وہ اس حکومت کے مظالم سے تنگ آکر اس کے ملک سے ہجرت کرنا چاہیں اور یہ حکومت انہیں اس ہجرت سے جبر ارو کے۔یہ وہ منصفانہ قانون ہے جو افراط اور تفریط کی راہوں سے بچتے ہوئے اسلام نے جاری کیا ہے اور ہر عظمند سمجھ سکتا ہے کہ یہی وہ تعلیم ہے جو دنیا میں حقیقی امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔و آخر دعوانا ان الحمد لله ربّ العالمين ( مطبوعه الفضل ۲۲ نومبر ۱۹۴۶ء)