مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 650 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 650

مضامین بشیر جماعت احمدیہ کی ظاہری ترقی ہوائی فضا کے ساتھ وابستہ ہے۔حضرت مسیح موسوی اور حضرت مسیح محمدی کے دولطیف کشف اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جہاں وہ اپنے مرسلوں اور ماموروں کو ان کی جماعتوں کی آئندہ دینی اور روحانی ترقیات کی خبر دیتا ہے۔وہاں بسا اوقات ان کی ظاہری اور مادی ترقی کے متعلق بھی قبل از وقت اشارے کر دیتا ہے اور یہ اشارے سراسر فضل اور رحمت کا موجب ہوتے ہیں۔کیونکہ مومن ان سے فائدہ اٹھا کر خدا کی نیک تقدیروں کو اپنے لئے جمع کر لیتے ہیں۔اسی تعلق میں میں اپنے مندرجہ ذیل نوٹ میں حضرت مسیح ناصری یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مسیح محمدی یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دوکشفوں کا ذکر کرتا ہوں ، جن میں ان ہر دو بزرگ رسولوں کو ان کی جماعتوں کی آئیندہ ترقی کی خبر دی گئی تھی۔چنانچہ انجیل میں حضرت عیسی علیہ السلام کے ایک کشف کا ذکر آتا ہے ، جس میں انہوں نے خدا سے نصرت پا کر پانیوں پر چلنے کا نظارہ دکھایا۔انجیل میں آتا ہے کہ : یسوع مسیح رات کے چوتھے پہر میں ان لوگوں کی طرف گیا جو جھیل کی سطح پر کشتی میں سوار ہو کر جا رہے تھے اس وقت مسیح پانیوں کے اوپر پا پیادہ چلا۔اور جب اس کے ان حواریوں نے اسے جھیل کی سطح پر چلتے ہوئے دیکھا تو وہ گھبرا کر کہنے لگے کہ یہ تو ایک روح آتی ہے۔اور وہ ڈر کے مارے چیخنے اور پکارنے لگے لیکن مسیح نے انہیں آواز دے کر تسلی دی اور کہا گھبراؤ مت اور تسلی رکھو۔یہ میں ہوں اور تمہیں ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔میرے پاس چونکہ اس وقت اردو کی انجیل نہیں ہے ، میں نے اوپر کا حوالہ انگریزی کی انجیل سے ترجمہ کر کے لکھا ہے اور ممکن ہے میرے الفاظ کچھ مختصر ہو گئے ہوں۔مگر بہر حال مفہوم یہی ہے ، جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔انجیل نے حسب سابق مسیح ناصری کے اس کشف کو ایک خارق عادت کے طور پر پیش کیا ہے لیکن حق یہ ہے کہ یہ صرف ایک کشفی نظارہ تھا جو حضرت مسیح ناصری کو ان کی قوم کی آئیندہ ظاہری اور دنیوی ترقی کے متعلق دکھایا گیا اور اس کشف میں اشارہ یہ مقصود ہے کہ عیسائی لوگ اس وقت ترقی کریں گے جب وہ جہاز رانی کی طرف توجہ دے کر پانیوں پر نکلیں گے تو تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسا