مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 638 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 638

مضامین بشیر ۶۳۸ مرد عورت کا آپس میں بے تکلفی کے ساتھ ملنا جلنا جائز بھی سمجھا جائے تو پھر بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ کورٹ شپ کے مناظر کو فلم کے پردے پر عریاں کر کے دکھانا ایک ایسی بات ہے کہ جس سے لوگ جنسی تعلقات کے متعلق نا گوار اثر قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔اور کچی اور نو جوان طبیعت کا تو کہنا ہی کیا ہے ان کے لئے تو ایسے مناظر گویا بارود کے ذخیرہ کو دیا سلائی دکھانے کے مترادف ہیں۔۳۔تیسری بات جو ایک اچھی اور جائز فلم میں نہیں ہونی چاہیئے وہ اغوا کے واقعات ہیں یعنی کسی شخص کا کسی لڑکی یا عورت کو اس کے جائز ولی کی اجازت اور اطلاع کے بغیر بھگا لے جانا۔یہ بات بھی ہر غور کرنے والی سعید فطرت کے نزدیک اخلاقی عامہ کو غلط راستہ پر ڈالنے والی اور بالآخر سوسائٹی کے امن کو برباد کر نے والی ہے۔۴۔چوتھی بات عریانی کے مناظر پیش کرنا ہے یعنی جسم انسانی کے ان حصوں کو ننگا کر کے پیش کرنا جنہیں نگا کرنا اسلام میں ممنوع قرار دیا گیا ہے۔بلکہ میں کہوں گا جنہیں ننگا کرنا دنیا کی ہر شریف سوسائٹی بُری نظر سے دیکھتی ہے اگر فلم کے پردے پر ان اعضاء کی عریانی کے مناظر پیش کئے جائیں تو اخلاقی لحاظ سے اس کا نتیجہ ظاہر ہے۔مثلاً پنڈلی اور ران کو ننگا کرنا یا ہاتھوں کو بازوؤں کی حد تک ننگا کرنا یا سینے کو ننگا کرنا حتی کہ بعض لوگ تو چھاتیوں کے ایک حصہ کو بھی ننگا کرنے میں حرج نہیں دیکھتے وغیرہ وغیرہ۔یہ سب باتیں ایسی ہیں جو اسلامی نکتہ نگاہ سے ناجائز اور ممنوع ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ آج کل کی فلموں میں ان سے بہت بڑھ چڑھ کر عریانی کے مناظر پیش کئے جاتے ہیں۔اور لوگ انہیں دیکھ کر خوش ہوتے اور ان کے ذریعہ تفریح کا سامان حاصل کرتے ہیں۔اس کے علاوہ اور بھی بعض باتیں ہیں مگر میں اس جگہ صرف ان چار باتوں کے ذکر پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔اگر کم از کم ان چار باتوں سے ہی کسی سنیما فلم کو پاک کر دیا جائے (بشرطیکہ وہ حقیقتا پاک ہوا اور محض بہانہ جوئی کا رنگ اختیار نہ کیا جائے ) تو میری رائے میں ایسی فلم ہرگز منع نہیں ہوگی۔بلکہ اگر اس میں تاریخی اور جغرافیائی اور علمی اور تحقیقی اور جنگی اور طبی حقائق پیش کئے جائیں تو میں بلا خوف لومة لائم کہتا ہوں کہ ایسی فلم کا دیکھنا نہ صرف جائز ہوگا بلکہ میں اسے دنیا کی علمی ترقی کے لئے ایک نعمت سمجھوں گا۔لیکن آ جا کے بات پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس شعر پر آجاتی ہے جو میں نے اپنے گذشتہ مضمون میں لکھا تھا حضور کیا خوب فرماتے ہیں : مگر مشکل یہی ہے درمیاں میں کہ گل بے خار کم ہیں بوستاں میں تا ہم میں اس بات کا قائل نہیں کہ ایسی فلم ہو ہی نہیں سکتی کہ جو ان خلاف اخلاق عناصر سے پاک