مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 567 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 567

مضامین بشیر میں نے جب یہ حدیث پڑھی تو میرے دل میں یہ بات کھٹکی کہ جب میرے جیسے کمزور اور گناہ گار انسان نے آج تک اپنی کسی دنیوی غرض کے لئے دعا نہیں کی (سوائے شاید ایک دفعہ کے جبکہ غفلت کی حالت میں میرے منہ سے ایک کلمہ نکل گیا تھا اور خدا نے اس پر تنبیہ فرمائی تھی کہ ان باتوں کی طرف توجہ مت دو ) تو پھر آنحضرت علیہ جیسی عظیم الشان اور رفیع الدرجات ہستی کے متعلق یہ کس طرح کہا گیا ہے کہ آپ سب سے زیادہ یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ مجھے دنیا کی نعمتیں بھی ملیں اور آخرت کی نعمتیں بھی ملیں۔حالانکہ آنحضرت مہ کے متعلق دوسری حدیث میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ: الْفَقْرُ فَخُرى ۵۸ د یعنی دنیا کی نعمتوں سے خالی ہاتھ ہونا میرے لئے باعث فخر ہے۔“ پس جب میں نے حدیث میں یہ پڑھا کہ آنحضرت عیہ سب سے زیادہ یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ خدایا مجھے دنیا کی نعمتیں بھی عطا کر اور آخرت کی نعمتیں بھی عطا کر تو میرے دل میں یہ سوال پید ہوا کہ یہ کیا بات ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس قسم کی دعا کی طرف کیوں زیادہ توجہ دی ہے؟ لیکن جب میں نے اس دعا کے الفاظ پر غور کیا تو گویا میری آنکھیں کھل گئیں اور مجھے سمجھایا گیا کہ کم از کم آنحضرت ے کے متعلق اس دعا کے ہرگز وہ معنی نہیں ہیں جو عام طور پر سمجھے جاتے ہیں۔یعنی یہ کہ ” مجھے دنیا کی حسنات بھی دے اور آخرت کی حسنات بھی دے۔بلکہ اس دعا کے یہ معنی ہیں کہ ”جو دینی اور روحانی حسنات دنیا میں مل سکتی ہیں وہ مجھے دنیا میں عطا کر اور جو دینی اور روحانی حسنات آخرت کے لئے مقدر ہیں وہ مجھے آخرت میں عطا کر۔اور دراصل اگر غور کیا جائے تو اس دعا کے الفاظ بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔کیونکہ الفاظ یہ نہیں ہیں کہ حسنة المدنيا( یعنی دنیا کی نعمت ) بلکہ الفاظ یہ ہیں کہ فــي الـدنـيـا حسـنــه ه یعنی دنیا میں ملنے والی نعمت۔جس کے یقینا یہی معنی ہیں اور یہی معنی آنحضرت ﷺ کی شان کے مطابق ہیں کہ وہ دینی اور روحانی حسنات جو دنیا میں مل سکتی ہیں وہ مجھے دنیا میں عطا کر اور جو حسنات آخرت کے لئے مقدر ہیں وہ مجھے آخرت میں عطا کر۔لیکن جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے کہ نعمت کے درجے مختلف ہوتے ہیں اور ضرورت کا میدان بھی مختلف ہوتا ہے کہ دنیا کی کوئی ضرورت اس کے ساتھ پیش آتی ہے کہ عام انسان اس پر توجہ دینے پر مجبور ہو جاتا ہے اور جب تک اس طرف توجہ نہ دے اس کے دل کا بوجھ نہیں اترتا اور طبیعت میں انتشار کی کیفیت زیادہ اس لئے ہماری شریعت نے ہر قسم کی اجازت دی ہے، بلکہ جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں آنحضرت ﷺ نے تو مختلف قسم کی طبیعت مد نظر رکھتے ہوئے یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر جوتی کا تسمہ ٹوٹ جاتا ہے تو وہ بھی خدا سے مانگو۔پس میں دوستوں کو یہ تحریک تو نہیں کرسکتا کہ وہ اپنی ذاتی