مضامین بشیر (جلد 2) — Page 565
مضامین بشیر ہے کہ وہ خدا کی پکار کو سنے۔تا کہ سننے اور سنانے دونوں کا عمل جاری رہے۔اور یہی وہ عظیم الشان روحانی نکتہ ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بارہا توجہ دلایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ دعاؤں کے معاملے میں خدا مومنوں کے ساتھ دوستی کا انداز رکھتا ہے کہ کبھی ان کی سنتا ہے اور کبھی اپنی سناتا ہے۔وہ شخص ہر گز دوست کہلانے کا حقدار نہیں سمجھا جا سکتا جو اپنے دوست سے تو یہ توقع 66 رکھتا ہے کہ وہ اس کی بات سنے مگر خود اپنے دوست کی بات سننے اور ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔پس جب رمضان کا مہینہ مخصوص دعاؤں کا مہینہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس مہینہ کے متعلق مخصوص طور پر قبولیت کا وعدہ بھی فرمایا ہے ، تو پھر کیا ہی بد قسمت ہے وہ انسان جو اس مبارک مہینہ کو پاتا ہے مگر پھر بھی یا تو خدا کے سامنے اپنا دامن پھیلانے کی طرف توجہ نہیں دیتا اور یا اپنی بدقسمتی سے خالی جھولی لے کر ہی واپس لوٹ آتا ہے اور واپس بھی کس ہستی کے دربار سے لوٹتا ہے کہ جس کے متعلق ہمارے آقا ﷺ فرماتے ہیں کہ : اِنَّ رَبَّكُمُ حَيِيقٌ كَرِيمٌ يَسْتَحِى مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْراً۔یعنی اے مسلمانو! تمہارا رب شرمیلا اور بخشش کرنے والا آقا ہے۔وہ اس بات سے شرماتا ہے کہ جب کوئی بندہ اس کے سامنے دعا کے لئے ہاتھ پھیلائے تو وہ اس کے ہاتھ کو خالی لوٹا دے۔اللہ اللہ کتنی محبت اور شفقت کا کلام ہے مگر کتنے ہیں جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں؟ پس دوستوں کو چاہئے کہ گوشعبان کا بیشتر حصہ گذر چکا ہے لیکن وہ پھر بھی ابھی سے خاص دعاؤں کی طرف توجہ دیں تا کہ جب رمضان کا چاند اپنی گونا گوں برکتوں کے ساتھ نمودار ہو تو وہ ہماری روحانی توجہ کو کمال کی حالت میں پائے اور اسی طرح رمضان کے بعد بھی چند دن دعاؤں کے خاص پروگرام کو جاری رکھیں تا کہ ایسا نہ ہو کہ رمضان کے اختتام سے پہلے ہی ان کی توجہ میں انتشار کی کیفیت پیدا ہونی شروع ہو جائے۔یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس کے متعلق حضرت عائشہ آنحضرت ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ : شَدَّ مِعْزَرَهُ وَأَحْيَا لَيْلَهُ د یعنی آنحضرت ﷺ رمضان کے مہینہ میں اپنی کمر کو کس لیتے تھے اور ایسی توجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت فرماتے تھے کہ گویا آپ کی راتیں بھی زندہ ہو جاتی تھیں۔“ یہ راتوں کے زندہ ہونے کا محاورہ غالباً حضرت عائشہ صدیقہ کی اپنی ایجاد ہے لیکن کیا ہی لطیف اور پاکیزہ ایجاد ہے کیونکہ اس میں اس لطیف حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ گورات کا وقت خصوصیت سے غفلت اور تاریکی کا وقت ہوتا ہے مگر آنحضرت ملی اسے بھی روحانی نور کی زبر دست کرنوں سے منور اور زندگی کی پُر زور لہروں سے متموج بنا لیتے تھے۔گویا آپ خود تو کامل طور پر زندہ تھے ہی مگر آپ کی روحانی توجہ سے رات جیسی مردہ اور تاریک گھڑی بھی روشن اور زندہ ہو جاتی تھی ،مگر ضروری 66