مضامین بشیر (جلد 2) — Page 564
مضامین بشیر ۵۶۴ شعبان اور شوال کے روزوں پر دیا کرتے تھے یعنی عموماً شعبان کا بیشتر حصہ نفلی روزوں میں گزارتے تھے۔اور اسی طرح عید کے بعد بھی شوال کے چھ روزے رکھا کرتے تھے۔اس میں بھی یہی بھاری حکمت مد نظر تھی کہ اصل رمضان کے مہینہ کو توجہ کے انتشار سے بچایا جائے۔میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آنحضرت عه فدا نفسی کو ذاتی طور پر توجہ کے انتشار کا خطرہ تھا۔کیونکہ حق یہ ہے کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے وہ عظیم الشان فطری انجمن عطا کیا تھا جو پہلے قدم پر ہی پوری رفتار پکڑ لیتا تھا اور جسے رکنے سے قبل بھی رفتار دھیمی کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی مگر چونکہ آپ نے اپنی امت کیلئے ایک سبق اور نمونہ بننا تھا اس لئے آپ نے مسلمانوں کی اصلاح اور ترقی کے لئے یہ طریق اختیار کیا کہ اہم نیک کاموں کے دونوں طرف سنتوں اور نوافل کے پہرہ دار مقرر فرما دیئے تاکہ ان کے نیک اعمال کا مرکزی نقطہ ہر دو جانب توجہ کے انتشار سے محفوظ رہے۔اس اصولی تشریح کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ گو دعا مومن کی ہر عبادت کا مرکزی نقطہ ہے اور اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ: الدَّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ ۱۵۳ دد یعنی دعا ہر عبادت کا گودا اور اس کے اندر کی جان ہے۔“ لیکن بعض ایام کو دعاؤں کے ساتھ خاص خصوصیت ہوتی ہے۔اور ان میں سے رمضان کا مہینہ بھی ایک ممتاز زمانہ ہے۔چنانچہ رمضان کے تعلق میں اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ : وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۵۴ فَلْيَسْتَجِبْوانِى وَيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ دو یعنی اے رسول جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق رمضان کے بارہ میں دریافت کریں تو تو ان سے کہہ دے کہ میں اس مہینہ میں اپنے بندوں کے بہت ہی قریب ہو جاتا ہوں اور ان دعا کرنے والوں کی دعاؤں کو خصوصیت سے قبول کرتا ہوں۔جو مجھے اپنی توجہ کا مرکز بنا کر مجھ سے اپنی حاجتیں مانگتے ہیں۔لیکن اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ جب وہ مجھ سے اپنی دعاؤں کی قبولیت چاہتے ہیں تو میری پکار پر بھی کان دھر میں اور مجھ پر سچا ایمان لائیں کیونکہ یہی ان کی کامیابی اور با مرادی کا واحد ذریعہ ہے۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رمضان کی یہ بھاری خصوصیت بیان کی ہے کہ اس بابرکت مہینہ میں خدا تعالیٰ خصوصیت کے ساتھ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا اور انہیں قبولیت کا شرف عطا فرماتا ہے۔لیکن ساتھ ہی نہایت لطیف رنگ میں یہ اشارہ بھی کر دیا گیا ہے کہ دعاؤں کی قبولیت میں خدا تعالیٰ نے دوستی کا اصول مقرر کر رکھا ہے کہ اگر ایک مومن چاہتا ہے کہ خدا اس کی دعا کو سنے تو اس پر بھی یہ لازم