مضامین بشیر (جلد 2) — Page 563
۵۶۳ مضامین بشیر یعنی دوسرے الفاظ میں فرائض کے دونوں طرف سنتیں مقرر نہ کی جائیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ فرائض کا کچھ حصہ شروع میں اور کچھ حصہ آخر میں توجہ کے انتشار کی وجہ سے ضائع چلا جاتا۔پس ہماری پر حکمت شریعت نے فرائض کے سارے حصہ کو کامل صورت میں برقرار رکھنے کے لئے یہ تدبیر اختیار کی ہے کہ اس کے دونوں پہلوؤں میں سنتوں کے پہرہ دار کھڑے کر دیئے ہیں۔تا کہ توجہ کے انتشار والا حصہ فرائض والے وقت پر اثر انداز ہونے کی بجائے سنتوں والے حصہ میں مدغم ہو کر رہ جائے۔اور فرائض والے حصہ میں کسی قسم کا رخنہ نہ پیدا ہو۔۔یہی وجہ ہے کہ فرض نمازوں کے شروع میں سنتیں زیادہ کر دی گئی ہیں تا کہ انسان سنتوں والے حصہ میں اپنی توجہ کو جما سکے اور پھر جب فرض والا حصہ آئے تو وہ کامل توجہ کے ساتھ اسے ادا کرنے پر قادر ہو۔اسی طرح فرض نمازوں کے آخر میں سنتیں اس غرض سے رکھی گئی ہیں تا کہ فارغ ہونے کے وقت سے قبل جو انتشار پیدا ہوتا ہے۔وہ فرائض والے حصہ میں پیدا ہونے کی بجائے سنتوں والے حصہ کی طرف منتقل ہو جائے۔اس پر سوال ہو سکتا ہے کہ ساری نمازوں کے آگے پیچھے تو سنتیں نہیں رکھی گئیں ، بلکہ بعض نمازوں کے دونوں طرف رکھی گئی ہیں اور بعض کے ایک طرف رکھی گئی ہیں۔اور بعض کے کسی طرف بھی رکھی نہیں گئیں سو یہ درست ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ صورت خود اپنی ذات میں شریعت اسلامی کے ایک دوسرے کمال کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔اور وہ یہ کہ شریعت نے سنتوں کے مقرر کرنے میں ہر نماز کے وقت کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔جو نماز ایسے وقت میں آتی ہے کہ اس کے دونوں طرف دنیوی کا روبار کی غفلت کا غلبہ ہوتا ہے تو ایسی نماز کے دونوں طرف سنتیں مقرر کر دی گئی ہیں۔اور اگر کوئی ایسی نماز ہے کہ جس کے شروع میں غفلت کا وقت ہوتا ہے تو اس سے پہلے سنتیں مقرر کر دی گئی ہیں۔اسی طرح جس نماز کے بعد میں غفلت کا وقت آتا ہے۔اس کے آخر میں سنتیں مقرر کر دی گئی ہیں۔وعلیٰ ھذا القیاس۔اور بعض نمازوں میں امتحان کے پہلو کو غالب رکھ کر صرف تنبیہہ کر دی گئی ہے کہ اس نماز کا خاص خیال رکھو۔میں اس نکتہ کو دانستہ زیادہ نہیں کھولتا کیونکہ اول تو یہ اس کا موقع نہیں اور دوسرے دوستوں کو خود غور کی عادت پیدا کرنی چاہئے مگر بہر حال سنتوں کے مقرر کرنے میں اصول و ہی مد نظر ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔یہی اصول رمضان کی عبادت میں مد نظر رکھا گیا ہے۔چونکہ خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ مسلمان رمضان کے سارے مہینہ کو کامل روحانی توجہ کی حالت میں گزاریں اس لئے شریعت نے کمال دانشمندی کے ساتھ رمضان کے دونوں پہلوؤں پر نفلی روزوں کے پہرے دار کھڑے کر دیئے ہیں۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت یہ نفلی روزوں کے تعلق میں سب سے زیادہ زور