مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 552 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 552

مضامین بشیر ۵۵۲ اوّل خلاصہ کلام یہ کہ اسلام میں دولت کی تقسیم کے متعلق چار بنیادی اصول تسلیم کئے گئے ہیں۔تقسیم ورثا اور نظام زکوۃ کے قیام اور سود اور جوئے کی حرمت کے ذریعہ ملکی دولت کو چند ہاتھوں میں جمع ہونے سے بچایا جائے۔دوم مگر دولت پیدا کرنے کے انفرادی حق کو قائم رکھا جائے تا کہ کام کرنے کا ذاتی محرک بھی قائم رہے اور افراد کے دماغ منجمد نہ ہونے پائیں۔سوم جولوگ با وجود ان ذرائع کے کسی خاص معذوری کی وجہ سے اپنی اقل ضروریات کا سامان بھی پیدا نہ کر سکیں ان کی ضروریات کا حکومت انتظام کرے۔چهارم خاص ہنگامی حالت میں جب کہ خوراک کی خطرناک قلت پیدا ہو جائے تمام انفرادی ذخیروں کو جمع کر کے ایک مرکزی قومی ذخیرہ جمع کیا جائے تا کہ سب لوگوں کو اقل خوراک کا مساویانہ راشن ملتا رہے اور یہ نہ ہو کہ ملک کا ایک حصہ تو عیش اڑائے اور دوسرا قوت لایموت سے بھی محروم ہو۔دینی اور روحانی امور میں مساوات اس کے بعد ہم اس مساوات کی بحث کو لیتے ہیں جو دینی اور روحانی امور سے تعلق رکھتی ہے سو جاننا چاہیئے کہ گو لا مذہب لوگوں اور دنیا داروں کو اس میدان کی اہمیت پر اطلاع نہ ہو مگر قرب الہی کی تڑپ رکھنے والوں اور نجات اخروی کے متلاشیوں کے نزدیک یہ میدان دنیا کی زندگی سے بھی بہت زیادہ اہم اور بہت زیادہ قابل توجہ ہے اور الحمد للہ کہ اس میدان میں بھی اسلامی تعلیم نے صحیح مساوات کے تر از وکو پوری طرح برابر رکھا ہے سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جہاں دوسرے مذا ہب یہ تعلیم دیتے ہیں کہ خدا کے الہام کا نزول اور اس کے نبیوں اور رسولوں کا ظہور صرف خاص خاص قوموں کے