مضامین بشیر (جلد 2) — Page 549
۵۴۹ مضامین بشیر دوسروں پر تکیہ کر کے بیٹھ جانے کا رستہ کھولتے ہیں یعنی جہاں سرمایہ داری جمع شدہ روپے کا کھونٹا گاڑ کر اس کے ساتھ انسان کو باندھ دیتی ہے وہاں اشتراکیت یعنی کمیونزم دوسری انتہا کی طرف لے جا کر اور حکومت کے کھونٹے کے ساتھ باندھ کر انسان کو گویا مسلنا چاہتی ہے اس سے ظاہر ہے کہ گو یہ انتہا ئیں جدا جدا ہیں مگر حقیقیہ سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں میں یہی اصول چلتا ہے کہ انسان کو انفرادی جد و جہد کے میدان سے نکال کر کسی مضبوط کھونٹے کے ساتھ باندھ دیا جائے جہاں وہ ہر وقت چوکس رہنے کی ضرورت محسوس کرنے کے بغیر آرام کی زندگی گزار سکے۔پس غور کیا جائے تو یہ دونوں افراط تفریط کی راہیں ہیں جن سے خدائے اسلام لوگوں کو بچا کر جد و جہد کے سرگرم میدان میں کھڑا رکھنا چاہتا ہے۔اشتراکیت کا اصول کیا ہے؟ یہی نا کہ قوم کے سب افراد مل کر متحدہ زندگی گذاریں اور خواہ بعض افراد دوسروں سے کمزور ہوں اور بعض مضبوط ہوں اور خواہ بعض سست ہوں اور بعض چوکس ہوں وہ گریں تو ا کٹھے گریں اور کھڑے ہوں تو اکٹھے کھڑے ہوں۔مگر غور کرو کہ کیا یہ بھی سرمایہ داری کی طرح ایک غیر طبعی سہارا نہیں جو انفرادی جد و جہد سے انسان کو غافل کرنے کا موجب ہوسکتا ہے۔بے شک اسلام نے بھی کمزور افراد کے لئے ملک وقوم کا سہارا مہیا کیا ہے مگر اس نے کمال دانشمندی سے اس سہارے پر پورا بھروسہ نہیں ہونے دیا اور انفرادی بوجھ کی اصل ذمہ واری افراد پر رکھی ہے اور زائد سہارا صرف جزوی امداد کے طور پر یا غیر معمولی حالات کے لئے مہیا کیا گیا ہے۔پس اسلام ہی وہ وسطی مذہب ہے جس نے سرمایہ داری اور اشتراکیت دونوں انتہاؤں سے بچتے ہوئے ایک درمیانی رستہ کھولا ہے وہ نہ تو جمع شدہ اموال کے ساتھ انسان کو باندھ کر اسے سرمایہ داری کے طریق پر بیکار کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی اسے اشتراکیت کے اصول پر کلیۂ حکومت کے سہارے پر رکھ کر اس کی انفرادی جد و جہد کو کمزور کرتا ہے۔چنانچہ مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے : جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ - یعنی اے مسلمانو! ہم نے تمہیں ایک وسطی امت بنایا ہے تا کہ تم ہر قسم کی انتہاؤں ۴۳ کی طرف جھک جانے والی قوموں کے لئے خدا کی طرف سے نگران رہو۔“ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسلام نے اپنے اقتصادی نظام میں وسطی طریق اختیار کیا ہے اور اگر کوئی دل و دماغ رکھنے والا شخص اشتراکیت کے مقابلہ پر اسلام کے اقتصادی نظام کے متعلق منصفانہ غور کرنا چاہے تو اس کے لئے اس نکتہ میں بھی بھاری سبق ہے کہ گوانتہاؤں کا فرق ضرور ہے یعنی سرمایہ داری ایک انتہاء پر واقع ہے اور اشتراکیت دوسری انتہاء پر۔مگر بہر حال اشتراکیت بھی ایک دوسری صورت میں اسی مصیبت کو دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے جو اس کے مقابل کی انتہا یعنی سرمایہ داری نے پیش