مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 548 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 548

مضامین بشیر ۵۴۸ اسلام نے یہ ضرور کیا ہے کہ انسان کی انفرادیت کو قائم رکھتے ہوئے اس سے بعض قومی ضرورتوں کے لئے قربانیوں کا مطالبہ کیا ہے اور اس مطالبہ کو اس انتہائی حد تک پہونچا دیا ہے جو ایک انسان کی انفرادیت کو مٹانے اور ظلم کا طریق اختیار کرنے کے بغیر اس کے ارد گرد کے گرے ہوئے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اوپر اٹھانے کے لئے ضروری ہے۔یہ وہ نکتہ ہے جسے سمجھ لینے کے بعد اسلامی مساوات اور اشتراکیت کا مسئلہ خود بخود حل ہو جاتا ہے بشرطیکہ کوئی شخص دیانت داری کے ساتھ اسے سمجھنے کے لئے تیار ہو۔اسلام ایک وسطی نظریہ پیش کرتا ہے ایک اور اصولی بات جو اسلام کے اقتصادی نظام کے متعلق یا درکھنی چاہیئے یہ ہے کہ انسانی زندگی کے متعلق اسلام یہ نظریہ پیش کرتا ہے کہ اس میں ہر وقت ایک جد و جہد کی کیفیت قائم رہنی چاہیئے اور در حقیقت زندگی ایک پیم حرکت اور مسلسل جد و جہد ہی کا نام ہے اور انسان کی ساری ترقی اس پیہم حرکت اور اسی مسلسل سعی کے ساتھ وابستہ ہے۔پس اسلام کسی ایسے نظام کا مؤید نہیں ہوسکتا جس میں انسان کو جد و جہد کے میدان سے نکل کر دوسرے کے کمائے ہوئے مال کو بیٹھے بیٹھے کھانے یا دوسرے کے سہارے پر کھڑے ہو کر زندگی گزارنے کا راستہ اختیار کرنا پڑے۔بے شک اسلام بھی انفرادی زندگی کے لئے بعض خارجی سہارے مہیا کرتا اور ان سے واجبی فائدہ اٹھانے کا سامان پیدا کرتا ہے مگر اس کا اصل زور اس بات پر ہے کہ ہر انسان خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہواور اپنے ہاتھ کی طاقت یا اپنے دماغ کی قوت سے اپنے لئے زندگی کا رستہ بنائے۔وہ خارجی سہاروں کو ایک زائد امدادی حیثیت تو ضرور دیتا ہے مگر صرف انہی پر کامل تکیہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔اسی لئے قرآن شریف ورثہ کے ذریعہ حاصل کئے ہوئے مالوں کو بیٹھ کر کھانے والوں کے متعلق فرماتا ہے : وَتَأْكُلُونَ الثَّرَاثَ أَكَلَّا لَمَّانَ وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبَّا جَمَّان - د یعنی تم لوگ فارغ بیٹھے ہوئے ورثہ کے مالوں کو کھانا چاہتے ہو اور خواہش رکھتے 66 ہو کہ یہ جمع شدہ مال کبھی ختم نہ ہو اور تم ذخیرہ شدہ دولت سے عشق لگائے بیٹھے ہو۔“ اس لطیف آیت میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ خدائے اسلام کو ایسی زندگی پسند نہیں جو انسان کو جد و جہد اور سعی و عمل کے میدان سے نکال کر کسی خاص کھونٹے کے ساتھ باندھ دے کیونکہ اس طرح آہستہ آہستہ انسان کے فطری قومی زنگ آلود ہو کر ضائع ہو جاتے ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ سرمایہ داری اور اشتراکیت یعنی کمیونزم دونوں انسان کو جد و جہد والی زندگی سے نکال کر