مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 547 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 547

۵۴۷ مضامین بشیر کے مکانوں میں رہتے ہیں جس میں کہ روس کا مزدور یا کسان رہتا ہے یا اسی قسم کے حالات میں سفر کرتے ہیں جن میں کہ روس کا مزدور یا کسان سفر کرتا ہے؟ جب نہیں اور ہر گز نہیں تو پھر مساوات کہاں رہی ؟ صرف فرق یہ ہے کہ کسی نے سرمایہ داری کے رنگ میں ملک کی دولت پر ہاتھ صاف کیا اور کسی نے اشتراکیت کا پردہ کھڑا کر کے خادم ملت کے رنگ میں اپنے لئے خاص مراعات محفوظ کر لیں۔حالانکہ فطری اور طبعی طریق ہے وہ جو اسلام نے قائم کیا ہے یعنی انفرادی حقوق اور انفرادی جد و جہد بھی جاری رہے اور غریبوں کو اوپر اٹھانے اور امیروں کی دولت میں سے ایک حصہ کاٹ کر غریبوں کی ضرورت کو پورا کرنے کا سلسلہ بھی قائم رہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ انتظام بھی قائم ہو کہ قومی اور ملکی دولت نا واجب طور پر چند ہاتھوں میں جمع ہونے سے محفوظ رہے۔( مطبوعه الفضل ۳۰ رمئی ۱۹۴۹ء) در اصل سا را دھوکا اس بات سے لگا ہے کہ انسانی حقوق کی اقسام پر غور نہیں کیا گیا۔انسانی حقوق دو قسم کے ہیں: ا۔ایک وہ حقوق ہیں جو حکومت کے ذمہ ہوتے ہیں جیسے کہ مثلاً عدل وانصاف کا قیام یا قومی عہدوں کی تقسیم وغیرہ۔۲۔دوسرے وہ حقوق ہیں جو یا تو فطری اور قدرتی رنگ میں حاصل ہوتے ہیں جیسے جسمانی طاقتیں اور دماغی قوی وغیرہ اور یا وہ انفرادی کوشش اور انفرادی جد و جہد کے نتیجہ میں حاصل ہوتے ہیں جیسے دولت یا مکسوب علم وغیرہ اسلام نے نہایت حکیمانہ طریق پر ان دونوں قسم کے حقوق میں اصولی فرق ملحوظ رکھا ہے۔یعنی جہاں تک ان انسانی حقوق کا تعلق ہے جو حکومت کے ذمہ ہوتے ہیں اسلام نے جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کامل مساوات قائم کی ہے اور مختلف قوموں اور مختلف انسانوں میں قطعاً کوئی فرق پیدا نہیں کیا۔لیکن جہاں دوسری قسم کے حقوق کا دائرہ شروع ہوتا ہے جو فطری قومی اور انفرادی جد و جہد سے تعلق رکھتے ہیں وہاں اسلام نے ایک مناسب حد تک دخل دے کر مختلف طبقات اور مختلف افراد کے فرق کو سمونے کی ضرور کوشش کی ہے لیکن ظلم و جبر کے رنگ میں سارے فرقوں کو یکسر مٹانے کا طریق اختیار نہیں کیا اور حق یہ ہے کہ اس میدان میں سارے فرقوں کو مٹا ناممکن بھی نہیں ہے۔مثلاً جسمانی طاقتوں کے فرق کو کون مٹا سکتا ہے؟ دماغی قوتوں کے فرق کو کون مٹا سکتا ہے؟ اور جب یہ فرق نہیں مٹائے جاسکتے تو ظاہر ہے کہ ان فرقوں کے طبعی نتائج بھی نہیں مٹائے جاسکتے۔ہاں چونکہ انسان تمدن الاصل صورت میں پیدا کیا گیا ہے اور اس کی فطرت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اپنے ہم جنس لوگوں کے ساتھ مل کر اور جہاں تک ممکن ہو ان کے لئے قربانی کرتے ہوئے زندگی گزارے اس لئے