مضامین بشیر (جلد 2) — Page 544
مضامین بشیر ۵۴۴ اور انشاء اللہ آئندہ بھی چلے گی اور یہ خیال کہ اسلام میں صرف وہ سود حرام کیا گیا ہے جو بڑی شرح کے مطابق کیا جائے یا جس میں سود در سود کا طریق اختیار کیا جائے۔ایک محض نفس کا دھوکا ہے جو اس دلدل میں پھنس جانے کی وجہ سے کمزور لوگوں کے دل میں پیدا ہوتا ہے ورنہ اسلام نے ہر قسم کا سود منع کیا ہے اور حق بھی یہی ہے کہ جو چیز ضررساں ہے وہ بہر حال ضرر رساں ہے خواہ تھوڑی مقدار میں ہویا بڑی مقدار میں۔۴۔چوتھے نمبر پر اسلام نے جوئے کی قسم کی آمدنیوں کو جن کی بنیاد محض اتفاق پر ہوتی ہے قرار دیا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بھی قوم اور ملک کی دولت میں نا واجب تقسیم کا رستہ ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ No د یعنی اے مسلمانو ! شراب اور جوا اور بتوں کے اور تقسیم کے تیر ، یقیناً ایک شیطانی عمل ہیں ، پس تم اس سے بالکل دور ہوتا کہ تم کامیاب و با مراد ہوسکو۔“ اس آیت میں یہ اصول بتایا گیا ہے کہ جو ان شیطانی اعمال میں سے ہے جو قوموں کی کامیاب زندگی کو تباہ کرنے والے ہیں اور اس کی یہی وجہ ہے کہ جوئے میں دولت کے حصول کو محنت اور ہنرمندی پر مبنی قرار دینے کی بجائے محض اتفاق پر مبنی قرار دیا جاتا ہے جو نہ صرف قومی اخلاق کے لئے مہلک ہے بلکہ ملک میں دولت کی نا واجب تقسیم کا بھی ذریعہ بن جاتا ہے۔بظاہر یہ ایک معمولی سا حکم نظر آتا ہے مگر اس سے اس لطیف نظریہ پر بھاری روشنی پڑتی ہے جو اسلام اپنے اقتصادی اور اخلاقی نظام کے متعلق قائم کرنا چاہتا ہے اور یہ کہ مسلمانوں کی آمدنی محنت اور ہنر مندی پر مبنی ہونی چاہیئے نہ کہ اتفاقی حادثات پر میسر کا لفظ بھی جو کسر یعنی سہولت اور آسانی سے نکلا ہے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کہ جوئے کی آمدنی محنت اور ہنر مندی پر مبنی نہیں ہوتی بلکہ یونہی بیٹھے بٹھائے آسانی سے مل جاتی ہے جو اسلام کے اقتصادی نظریہ کے سراسر خلاف ہے۔اوپر کی چار اصولی باتیں صرف اختصار کے خیال سے بیان کی گئی ہیں ورنہ اسلام نے اپنے اقتصادی نظام میں دولت کے سمونے کے بہت سے ذریعے تجویز کئے ہیں اور اسلام کا منشا یہ ہے کہ ایک طرف تو ذاتی جد و جہد کا سلسلہ جاری رہے اور ہر شخص کے لئے اپنی ذاتی محنت کے پھل کھانے کا رستہ کھلا ہو۔کیونکہ دنیا میں محنت اور ترقی کا یہی سب سے بڑا محرک ہے اور دوسری طرف ملکی دولت بھی نا واجب طور پر چند ہاتھوں میں جمع ہونے سے محفوظ رہے اور یہی وہ وسطی طریق ہے جس پر گامزن