مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 540 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 540

مضامین بشیر ۵۴۰ جس طرح زمین کے پیٹ میں ایک ہی قسم کے عناصر مختلف قسم کی صورتیں اور مختلف قسم کے خواص اختیار کر کے مختلف قسم کی معدنیات کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اسی طرح مختلف انسان بھی بعد کے حالات کی وجہ سے مختلف قوموں اور قبیلوں میں تقسیم ہو کر مختلف اوصاف اختیار کر سکتے ہیں۔مگر اس فرق کی وجہ سے کسی قوم یا کسی قبیلہ یا کسی فرد کو کسی دوسرے پر بیجا فخر اور تکبر نہیں کرنا چاہیئے۔کیونکہ ممکن ہے جو قوم یا جو شخص آج نیچے ہے وہ کل کو اوپر ہو جائے۔۔اس کے بعد اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ اس وحدت نسلی کے علاوہ مسلمان خصوصیت کے ساتھ ایک دوسرے کے بھائی ہیں کیونکہ وہ ایک ایمان کے حامل اور ایک ہی دامن رسالت سے وابستہ ہونے کی وجہ سے ایک ہی روحانی باپ کے بچے ہیں۔پس انہیں ہر حال میں بھائی بھائی بن کر رہنا چاہیئے۔۴۔اس کے بعد اسلام یہ بتاتا ہے کہ بے شک مومنوں میں بھی فرق ہو سکتا ہے مگر یہ فرق ان کے ذاتی اوصاف پر مبنی ہونا چاہیئے اور بہر حال خدا کے نزدیک زیادہ عزت والا شخص وہ ہے جو دینداری اور تقویٰ اور جذبہ خدمت میں دوسروں سے آگے ہے۔۵۔اس کے بعد اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ کسی شخص کے دینی امتیاز یا دنیوی بڑائی کی وجہ سے یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ قضائی اور عدالتی معاملات میں کوئی فرق ملحوظ رکھا جائے کیونکہ عدالتی حقوق کے میدان میں سب لوگ قطعی طور پر برا بر ہیں۔۔اس کے بعد اسلام اس زریں اصول کو بیان کرتا ہے کہ قومی عہدوں کی تقسیم میں صرف ذاتی اہلیت کو دیکھنا چاہیئے اور بلالحاظ امیر وغریب اور بلالحاظ نسل و خاندان جو شخص بھی کسی عہدہ کا اہل ہو اسے وہ عہدہ سپر د کرنا چاہیئے خواہ وہ کوئی ہو۔ے۔اس کے بعد اسلام یہ ارشاد فرماتا ہے کہ کسی صاحب عزت شخص کا واجبی اکرام کرنا اچھے اخلاق کا حصہ ہے مگر تمدنی معاملات میں سب مسلمانوں کو آپس میں اس طرح مل جُل کر رہنا چاہیئے کہ وہ ایک خاندان کے افراد نظر آئیں۔وہ مجلسوں میں بلالحاظ امیر وغریب مل جُل کر بیٹھیں۔اگر کوئی امیر دعوت کرے تو اس میں غریبوں کو بھی ضرور بلائے اور اگر کوئی غریب دعوت کرے تو امیر اس سے انکار نہ کریں۔بالآخر اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ بیاہ شادی کے معاملات میں بیوی کا انتخاب اس کے ذاتی اوصاف اور ذاتی نیکی کی بناء پر ہونا چاہیئے نہ کہ اس کے حسب نسب اور مال و دولت وغیرہ کی بنا پر۔۔