مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 539 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 539

۵۳۹ مضامین بشیر اور خاوند بیوی کے مخصوص حقوق کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِى عَلَيْهِنَّ - ۳۵ د یعنی جس طرح خاوند کے بعد حقوق بیویوں کے ذمہ ہیں اسی طرح بیویوں کے 66 بعض حقوق خاوندوں کے ذمہ بھی ہیں۔“ اس قرآنی آیت کا مطلب یہ ہے کہ حقوق اور ذمہ واریوں کے معاملہ میں میاں بیوی برابر ہیں کہ کچھ پابندیاں خاوند کے ذمہ لگا دی گئی ہیں اور کچھ پابندیاں بیوی کے ذمہ لگا دی گئی ہیں اور دونوں اپنی اپنی ذمہ داریوں کے متعلق پوچھے جائیں گے۔مگر چونکہ انتظامی لحاظ سے گھریلو زندگی کی باگ ڈور بہر حال ایک ہاتھ میں رہنی ضروری ہے اس لئے اس جہت سے قرآن شریف فرماتا ہے : الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ اَمْوَالِهِمْ فَانظُلِحَتْ قُنِتُت - و یعنی گھریلو زندگی میں مردوں کو عورتوں پرا میر اور نگران رکھا گیا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے فطری قوئی میں مردوں کو فضیلت عطا کی ہے اور پھر عورتوں کے اخراجات کی ذمہ واری بھی انہیں پر ہے۔پس نیک بیویوں کو بہر حال اپنے خاوندوں کا فرمانبردار رہنا چاہیئے۔“ لیکن اس انتظامی فرق کو ایک طرف رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیویوں کے ساتھ سلوک کرنے کے متعلق فرماتے ہیں: خيركُم خيرُ كُم لاهله وَأَنَا خِيرُ كُمُ لَا هُلِى - ۱۳۷ یعنی تم میں سے خدا کے نزدیک بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں سب سے بہتر ہے۔اور خدا کے فضل سے میں تم سب میں اپنی بیویوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے والا ہوں۔“ ( مطبوعه الفضل ۱۸ مئی ۱۹۴۹ء ) خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسلام نے مساوات انسانی کے متعلق بہترین تعلیم دی ہے چنانچہ ا۔سب سے پہلے اس نے اس اصول کو بیان کیا ہے کہ سب لوگ ایک ہی جنس کی مخلوق اور ایک ہی باپ کی نسل اور ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں اس لئے نسلی لحاظ سے سب کا حق برابر ہے۔۲۔اس کے بعد اس نے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ نسلی وحدت کے باوجود یہ ممکن ہے کہ