مضامین بشیر (جلد 2) — Page 538
مضامین بشیر ۵۳۸ پہلوکوتر بیچ دیا کرور نہ یا درکھ تیرے ہاتھ ہمیشہ خاک آلودہ رہیں گے۔“ یہ وہ مبارک تعلیم ہے جو نہ صرف مسلمانوں کے گھروں کو جنت کا نمونہ بنا سکتی ہے بلکہ ان کی نسلوں کو بھی دین و دنیا میں ترقی دینے کی بنیاد بننے کا بھاری ذریعہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی نمونہ بھی اس معاملہ میں یہ ہے کہ آپ نے اپنی پھوپھی زاد بہن حضرت زینب بنت جحش کی شادی اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کے ساتھ کر دی تھی اور اس معاملہ میں عربوں کے قدیم رسم ورواج اور خیالات کی قطعاً پروا نہ کی۔اسی طرح خود آپ نے عربوں کی ہر معروف قوم میں شادی کی یعنی قریش میں بھی کی اور غیر قریش میں بھی کی۔اور بنی اسرائیل میں بھی کی ، اور عرب میں یہی تین قومیں آباد تھیں۔مگر افسوس ہے کہ آج کل کئی مسلمان اپنی قوم سے باہر شادی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔مثلاً ایک سید اس بات پر مصر ہوتا ہے کہ اس کی لڑکی صرف سید کے گھر جائے اور ایک راجپوت کا اس بات پر اصرار ہوتا ہے کہ اس کی لڑکی صرف راجپوت کی بیوی بنے اور ایک گلے زئی اس بات پرضد کر کے بیٹھ جاتا ہے کہ اس کی لڑکی صرف گلے زئی کے ساتھ بیا ہی جائے اور اسی طرح آنحضرت صلعم کی زرین تعلیم اور آپ کے مبارک اسوہ کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔مرد و عورت میں حقوق کی مساوات پھر مساوات کی بحث میں عورت کی مساوات کا سوال بھی بہت اہمیت رکھتا ہے یعنی جہاں آج کل ایک طبقہ عورت کو جوتی کی طرح اپنے پاؤں کے نیچے رکھنا چاہتا ہے تو وہاں دوسرا طبقہ اسے ایسی آزادی دینے پر تلا ہوا ہے کہ گویا وہ انتظامی لحاظ سے بھی خاوند کی نگرانی سے باہر ہو گئی ہے اور پھر یورپ کا ایک طبقہ اسلام کی طرف یہ تعلیم بھی منسوب کرتے ہوئے نہیں شرما تا کہ اسلام عورت میں روح تک کو تسلیم نہیں کرتا گویا وہ صرف ایک مشین کی طرح کا ایک جانور ہے جس کی زندگی اس کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔مگر قرآن شریف ان سارے باطل خیالات کی تردید فرماتا ہے۔چنانچہ سب پہلے تو اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ مرد عورت اپنے اعمال کی جد و جہد اور ان کے نتائج کے حصول میں برابر ہیں اور سب کے اعمال کا نتیجہ یکساں نکنے والا ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے : أبِي لَا أَضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمُ مِنْ ذَكَرٍ أَو أَنَّى بَعْضُكُمْ مِّن بَعْضٍ - ۳۴ دو یعنی اے لوگو! میں تمہارا خالق و مالک ہوں میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرتا خواہ وہ مرد ہو یا عورت کیونکہ تم سب ایک ہی نسل کے حصے اور ایک ہی درخت کی شاخیں ہو۔“