مضامین بشیر (جلد 2) — Page 536
مضامین بشیر ۵۳۶ د یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے منع فرماتے تھے کہ کوئی شخص اپنی جگہ سے اس لئے اٹھایا جائے کہ تا اس کی جگہ کوئی دوسرا شخص بیٹھ جائے اور فرمایا کرتے تھے کہ اگر جگہ تنگ ہو اور زیادہ آدمی آجائیں تو پھر سب سمٹ سمٹ کر آنے والوں 66 کے لئے جگہ نکال لیا کرو۔“ یہی اصل نمازوں کے موقع پر مسجدوں میں ملحوظ رکھا گیا ہے جہاں کسی شخص کے لئے کوئی جگہ ریز رونہیں ہوتی اگر ایک خادم پہلے آتا ہے تو وہ پہلی صف میں جگہ پائے گا اور اگر ایک آقا پیچھے پہنچتا ہے تو وہ آخری صف میں بیٹھے گا۔غرض خدا کے گھر میں امیر وغریب۔خادم و آقا۔حاکم و محکوم طاقتور اور کمزور سب برابر ہو جاتے ہیں اور کوئی امتیاز ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔یہی حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کا تھا جس میں آپ اپنے صحابہ کے ساتھ اس طرح مل جل کر بیٹھتے تھے کہ بعض اوقات ایک اجنبی شخص کے لئے آپ کی مجلس میں اس بات کا جاننا اور پہچاننا مشکل ہو جا تا تھا کہ آپ کون ہیں اور کہاں بیٹھے ہیں۔خادم و آقا کے تعلقات خادم و آقا کے تعلقات کا سوال بھی ایک بہت اہم سوال ہے مگر چونکہ اس سوال کے متعلق کتاب ہذا کے حصہ دوم میں مسئلہ غلامی کی ذیل میں اصولی بحث گزر چکی ہے اس لئے اس جگہ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں صرف اس قدر اشارہ کافی ہے کہ خادموں اور غلاموں کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے بھی اسلام نے نہایت تاکیدی ہدا یتیں دی ہیں مثلاً آقاؤں کو ہوشیار کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں : كُلكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسُولٌ عَنْ رَّعِيَّتِهِ -۔د یعنی تم میں سے ہر شخص کو ہوشیار رہنا چاہیئے کیونکہ اسے اس کے سب ماتحت لوگوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔اور خادماؤں اور آقاؤں کی درمیانی خلیج کو اڑانے کے متعلق فرماتے ہیں کہ : اِنَّ اِخْوَانَكُمْ حَوَلُكُمْ جَعَلَ هُمُ اللَّهُ تَحْتَ اَيْدِ يُكُمُ فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمُهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسَهُ مِمَّا يَلْبَسُ وَلَا تُكَلَّفُوا هُمُ مَا يَغْلِبُهُمْ فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمُ مَا يَغْلِبُهُمْ فَأَعِيدُوهُمْ - یعنی تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں پس جب کسی شخص کے ماتحت اس کا کوئی بھائی ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنے خادم بھائی کو اس کھانے میں سے کچھ نہ کچھ حصہ دے ۳۲