مضامین بشیر (جلد 2) — Page 528
مضامین بشیر ۵۲۸ داری اور اشتراکیت انہیں فتنوں سے پیدا شدہ انتہا ئیں ہیں جن میں سے ایک میں افراط کی صورت پیدا ہوگئی ہے اور دوسری میں تفریط کی۔اسلامی مساوات کا اصولی نظریہ اسلامی مساوات کے نظریہ کا یہ نچوڑ اور خلاصہ چند قرآنی آیات اور چند احادیث نبوی میں آجاتا ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : يَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً 1 د یعنی اے لوگو! تم آپس کے معاملات میں خدا کا تقویٰ اختیار کرو اور اس سے ڈرتے رہو جس نے تم سب کو ایک جان سے پیدا کیا اور پھر اس ایک جان سے اس نے اس کا جوڑا بنایا اور پھر اس جوڑے سے اس نے دنیا میں کثیر التعداد مرد اور عورت پھیلا دیئے۔“ اس قرآنی آیت میں اللہ تعالیٰ انسان کو اس ابدی حقیقت کی طرف توجہ دلا کر کہ وہ سب ایک ہی باپ کی اولاد اور ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں، دنیا میں صحیح مساوات کی بنیاد قائم کر دی ہے اور اس اصول کی طرف توجہ دلائی ہے کہ بعد کے حالات کے نتیجے میں مختلف انسانوں اور مختلف قوموں اور مختلف طبقات میں کتنا ہی فرق پیدا ہو جائے انہیں آپس کے معاملات میں اس بات کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے کہ بہر حال اپنی اصل کے لحاظ سے وہ ایک ہی باپ کی نسل ہیں۔کیا اگر ایک باپ کے بیٹوں میں سے بعض بچے دوسروں کی نسبت زیادہ دولت یا زیادہ طاقت یا زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر لیں اور دوسرے ان باتوں میں نسبتاً پسماندہ رہیں تو وہ اس فرق کی وجہ سے بھائی بھائی نہیں رہتے اور کوئی غیر چیز بن جاتے ہیں؟ ہر گز نہیں ہر گز نہیں۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَلَى أن يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ يَا يُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَكُمُ مِّن ذَكَرٍ وَ أُنثَى 12 وَجَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ الْقُكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ - IA د یعنی سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔۔۔سواے مسلمانو ! ایسا نہیں ہونا