مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 523 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 523

۵۲۳ مضامین بشیر بوجھ کو برداشت کر لے گا لیکن اگر نہ تو وہ خود اپنی ذات میں مضبوط ہے اور نہ ہی اپنے خاندان یا سوسائٹی یا مقامی جماعت کے لحاظ سے مضبوط ماحول میں گھرا ہوا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ابتلا کے بوجھ اور دباؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے ٹوٹ جائے گا۔اس کی مثال یوں سمجھنی چاہیئے کہ بہت سے دھاگوں کا ایک مجموعہ ہو اور اس مجموعہ کے دونوں کناروں کو مٹھے کی صورت میں پکڑ کر زور کے ساتھ باہر کی طرف کھینچا جائے تو لازماً ایسے وقت میں وہ دھا گے جو اپنی ذات میں کمزور ہیں اور دوسرے دھاگوں کے ساتھ ان کا اتصال بھی مضبوط نہیں وہ رسہ کے بحیثیت مجموعی سلامت رہنے کے باوجود تراخ تڑاخ کر کے ٹوٹنا شروع ہو جائیں گے اور ایسی صورت میں صرف وہی دھا گے بچیں گے جو یا تو اپنی ذات میں غیر معمولی طور پر مضبوط ہیں اور یا دوسرے دھاگوں کے ساتھ اس طرح لیٹے ہوئے ہیں کہ اس اتصال و اتحاد نے ان کی ذاتی کمزوری کو ނ دبا رکھا ہے۔بعینہ یہی حال موجودہ امتحان کے دور میں نظر آ رہا ہے کہ جہاں مضبوط دھا گے خدا کے فضل۔سلامت ہیں بلکہ بعض صورتوں میں دباؤ اور کھچاوٹ کے چکر نے ان کی طاقت کو اور بھی زیادہ مضبوط کر دیا ہے اور اسی طرح وہ دھاگے بھی سلامت ہیں جو اپنی ذات میں تو مضبوط نہیں مگر دوسرے دھاگوں کے ساتھ مل کر ایک رسی کی صورت اختیار کر چکے ہیں مگر ان کے مقابل پر وہ دھاگے لازماً ٹوٹ رہے ہیں جو نہ تو اپنی ذات میں مضبوط ہیں اور نہ دوسرے دھاگوں کے ساتھ مل کر بالواسطہ مضبوطی اختیار کر چکے ہیں۔اندریں حالات مقامی جماعتوں اور احمدی خاندانوں کے سر بر آوردہ لوگوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بات کی نگرانی رکھیں کہ کمزور طبیعت کے لوگ یا تو ایمان اور اخلاص میں زیادہ پختہ ہو کر اپنی ذات میں مضبوط اور محفوظ ہو جائیں اور یا كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ کے حکم کے ماتحت ایسے ماحول کے ساتھ وابستہ رہیں جو انہیں کم از کم بالواسطہ طور پر مضبوط اور محفوظ کر دے۔یہ امتحان بہر حال عارضی ہے اور خدا نے چاہا تو جلد گزرجائے گا اور شاید اس کے گذرنے کے آثار ابھی سے دور کے افق میں نظر آرہے ہیں۔مگر خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس عظیم الشان زلزلہ کے وقت میں ڈگمگانے اور لغزش کھانے سے بچے رہے اور خوش قسمت ہیں وہ لوگ بھی جو خود تو اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہو سکتے مگران کے عزیزوں اور دوستوں نے ان کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے انہیں سہارا دے رکھا ہے اور سب سے بڑھ کر خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو نہ صرف خود گرنے سے محفوظ رہے ہیں بلکہ اس طوفانِ عظیم میں دوسروں کو بھی سہارا دے کر بیچارہے ہیں۔مگر افسوس صد افسوس ان لوگوں پر جو اس امتحان کے وقت