مضامین بشیر (جلد 2) — Page 524
مضامین بشیر ۵۲۴ میں گر گئے اور گر رہے ہیں اور نہ تو کوئی اندرونی طاقت انہیں بچاسکی اور نہ کوئی بیرونی سہارا ہی انہیں میسر آیا۔ایسے لوگ غزوہ تبوک کے منافقوں کی طرح ہیں جو اس نازک اور بھاری امتحان کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی تباہی کا یقین کر چکے تھے۔مگر پھر آپ کے سلامت واپس آنے پر ایک ایک دو دو کر کے اپنی شرمندگی کو چھپاتے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یقین دلانا چاہتے کہ ہم اس سارے عرصہ میں ایسے ہی مخلص اور جاں مار رہے ہیں۔اسی طرح انشاء اللہ تعالیٰ یہ لوگ بھی جماعت کی شاندار بحالی پر پھر ہماری طرف لوٹیں گے اور یہ یقین دلانا چاہیں گے کہ وہ تو ہر حال میں جماعت کے مخلص اور فدائی ہیں۔اس وقت کیا ہوگا ؟ اسے تو صرف خدا ہی جانتا ہے یا کسی قدر وہ لوگ جانتے ہیں جو علم میں راسخ ہیں ( کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں ان باتوں کے متعلق بھی کافی اشارے موجود ہیں ) مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ خدا کے دربار میں اس جان نثار احمدی کی سر بلندی کو کوئی شخص نہیں پہنچ سکتا جو عسر یسر ہر دو میں خدا کا وفادار بندہ رہا اور کسی حالت میں بھی اس نے اپنے ایمان اور اخلاص کو کمزوری یا نفاق کی گندگی سے ملوث نہیں ہونے دیا۔میں خدا کے فضل سے اس مضمون پر بہت کچھ لکھ سکتا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت سے الہامات جو ان حوادث اور ان کے نتائج سے تعلق رکھتے ہیں، میری نظر میں آئینہ کی طرح صاف ہیں مگر ساری باتیں وقت سے پہلے ظاہر نہیں کی جاسکتیں اور نہ ہی خدا کی اٹل تقدیر کو کوئی قبل از وقت انکشاف بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔ولا حول ولاقوة الا بالله وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين - ( مطبوعه الفضل ۵ رمئی ۱۹۴۹ء)