مضامین بشیر (جلد 2) — Page 515
۵۱۵ مضامین بشیر إِنَّ الَّذِى فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ دو یعنی وہ خدا جس نے اس زمانہ میں تجھ پر قرآنی شریعت کی خدمت واشاعت فرض کی ہے وہ ضرور ضرور تجھے تیرے لوٹنے والی جگہ کی طرف واپس لے جائے گا۔“ بہر حال جہاں ہجرت والے الہام پورے ہوئے وہاں ضرور ہے کہ واپسی والے الہام بھی پورے ہوں اور وہ انشاء اللہ ضرور پورے ہو کر رہیں گے اور دنیا کی کوئی طاقت ان کے راستہ میں روک نہیں بن سکتی اور یہ بھی یا درکھنا چاہیئے کہ قادیان کی واپسی سے چند احمد یوں کا وہاں جا کر بس جانا مراد نہیں ہے کیونکہ یہ بات تو ہمیں خدا کے فضل سے اب بھی حاصل ہے بلکہ اس سے پوری آزادی کے ماحول کے ساتھ قادیان کی واپسی مراد ہے جو انشاء اللہ اپنے وقت پر پوری ہو کر رہے گی۔باقی یہ علم صرف خدا کو ہے کہ قادیان کی واپسی والے الہامات کب پورے ہوں گے اور کس صورت میں پورے ہوں گے لیکن جہاں تک میرا قیاس ہے میں خدا کے فضل سے یقین رکھتا ہوں کہ ا۔وہ انشاء اللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کی زندگی میں پورے ہوں گے اور ۲۔انشاء اللہ مرکز ربوہ کا قیام واپسی کے الہاموں کے پورے ہونے کے لئے ایک ظاہری علامت بن جائے گا کیونکہ وہ موجودہ ابتلاء میں جماعت کے امتحان اور اس پر جماعت کی قربانی کی تکمیل کی علامت ہے۔۔اس کے علاوہ میں خیال کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام کہ غُلِبَتِ الرُّومَ في أَدْنَى الْأَرَضِ وَهُمُ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ بھی جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قادیان پر چسپاں کیا ہے کی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ انشاء اللہ قادیان کی واپسی میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔کیونکہ اس الہام میں س کا لفظ شامل ہے جو مستبقل قریب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور دراصل قرآنی آیت میں بضع سنین کا لفظ بھی آتا ہے۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَلَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا۔بہر حال ربوہ کے مرکز کا قیام اس جہت سے ایک اہم جماعتی غرض کو پورا کرنے والا ہے کہ وہ قادیان کی بحالی کی ظاہری علامت ہے مگر اس کے علاوہ اپنی ذات میں بھی وہ ایک نہایت اہم غرض کا حامل ہے کیونکہ وہ جماعت کا مرکز بننے والا ہے اور کوئی جماعتی تنظیم قائم نہیں ہو سکتی اور نہ کوئی جماعت پنپ سکتی اور ترقی کر سکتی ہے جب تک کہ اس کا کوئی مخصوص مرکز اور اس مرکز کا ایک مخصوص ماحول نہ ہو اور قادیان سے نکلنے پر جو بظاہر انتشار کی صورت پیدا ہوئی ہے ، اس کے پیش نظر اس بات کی اور بھی