مضامین بشیر (جلد 2) — Page 512
مضامین بشیر ۵۱۲ ہمارا امتحان اور مرکز ربوہ قادیان سے ہمارا نکلنا بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ نکالا جانا ایک بہت بھاری امتحان تھا جو خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے لئے مقدر کر رکھا تھا۔اس امتحان کے نتیجہ میں جو انتشار کی کیفیت بظاہر پیدا ہوئی ہے وہ محتاج بیان نہیں لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو خدا تعالیٰ کی اس بظا ہر تلخ تقدیر میں بھی بہت سے نشانات مخفی ہیں اور ہر نشان اپنے اندر خدا کی ہستی اور احمدیت کی صداقت کی ایک روشن دلیل ہے۔اس نشان کے مندرجہ ذیل پہلو خاص طور پر نمایاں اور قابلِ توجہ ہیں : ا۔اس امتحان کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی یہ قدیم سنت پوری ہوئی کہ ہر نبی کی جماعت کو کسی نہ کسی رنگ میں ہجرت کرنی پڑتی ہے۔چنانچہ حضرت ابرا ہیم کو ہجرت کرنی پڑی۔حضرت موسیٰ“ کو ہجرت کرنی پڑی۔حضرت عیسی کو ہجرت کرنی پڑی اور بالآخر ہمارے آقا نبیوں کے سرتاج آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی ہجرت کرنی پڑی۔پس اگر اس قدیم خدائی سنت کے مطابق جماعت احمدیہ کو بھی عارضی طور پر اپنے مرکز سے نکلنا پڑا تو یہ کوئی جائے اعتراض اور جائے تعجب نہیں بلکہ حقیقتاً ہماری یہ ہجرت بھی ایک نشان کا رنگ رکھتی ہے اور احمدیت کی صداقت کی ایک دلیل ہے۔چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف مطحنۂ حق میں جماعت کی ہجرت کی طرف اشارہ کیا۔اسی طرح آپ نے اپنے الہام مَسِيرُ الْعَرَبِ کی تشریح میں بھی لکھا ہے کہ شاید جماعت کو بھی کبھی ہجرت کرنی پڑے گی۔۲۔اس نشان کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ نہ صرف خدائی سنت کے لحاظ سے اور نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں کی بناء پر جماعت احمدیہ کی یہ ہجرت ایک خدائی سنت کو پورا کرنے والی ہے۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو متعدد الہامات کے ذریعہ بھی یہ معین خبر دی گئی تھی کہ ایک وقت آئے گا جب آپ کی جماعت کو قادیان سے نکلنا پڑے گا۔مثلاً خدا تعالیٰ نے آپ کو الہام فرمایا کہ يَأْتِي عَلَيْكَ زَمَنْ كَمِثْلِ زَمَنِ مُوسَى یعنی تجھ پر موسیٰ کی طرح کا ایک زمانہ آئے گا۔“ وغیرہ وغیرہ