مضامین بشیر (جلد 2) — Page 491
۴۹۱ مضامین بشیر اراضی کی الاٹمنٹ کے متعلق ایک ضروری اعلان ا۔میں اپنے ایک سابقہ اعلان میں مشرقی پنجاب سے آئے ہوئے دوستوں کو اس طرف توجہ دلا چکا ہوں کہ نئی پروویژنل الائمنٹ کے متعلق جو فیصلہ ہوا ہے، اس کے مطابق انہیں اپنی درخواستیں داخل کرانے میں سستی سے کام نہیں لینا چاہیئے اور چونکہ ایسی درخواستوں کے داخل کرانے کے لئے بہت قلیل میعاد مقرر ہے اس لئے اس کام میں توقف نہ کیا جائے اور مقررہ مطبوعہ فارموں کو پوری پوری احتیاط کے ساتھ صحیح طریق پر خانہ پری کرنے کے بعد اور حلف نامہ پر کسی مجسٹریٹ یا سب حج وغیرہ کی تصدیق کرانے کے بعد داخل کیا جائے۔میعاد بعض ضلعوں میں ۱۵ / فروری کو ختم ہونی ہے اور بعض میں ۲۵ کو اور بعض میں مارچ کے پہلے ہفتہ میں۔اس لئے ضروری ہے کہ مقامی عملہ سے میعاد کا پختہ پتہ لے لیا جائے اور بہر حال احتیاطاً اس معاملہ میں فوراً توجہ دینے کی ضرورت ہے۔۲۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ بعض زمینداروں میں جنہیں مشرقی پنجاب وغیرہ سے پاکستان چلے آنے کے بعد گزارہ کے لئے زمین مل گئی تھی ، یہ غلط فہمی پیدا ہورہی ہے کہ انہیں نئے فیصلہ کے مطابق کسی مزید درخواست دینے کی ضرورت نہیں مگر یہ خیال غلط ہے۔سابقہ الاٹمنٹ محض گذارہ کے لئے وقتی طور پر تھی اور تھوڑے رقبہ کے لئے تھی لیکن اب ہر شخص کے ضائع شدہ رقبہ کے مقابلہ پر پختہ اور پوری الاٹمنٹ ہونے والی ہے۔اس لئے خواہ کسی کو زمین مل چکی ہے یا نہیں ملی ، اگر وہ مشرقی پنجاب وغیرہ میں زمین چھوڑ کر آیا ہے تو اُسے جدید قانون کے مطابق نئی درخواست دینی چاہیئے۔جس کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے طبع شدہ فارمز مقرر ہیں۔اس درخواست میں اپنی ضائع شدہ اراضی کی تفصیل دے کر اس کے مقابل پر پختہ الاٹمنٹ کا مطالبہ کیا جائے اور فارم کے سارے خانے احتیاط کے ساتھ بھرے جائیں اور یہ بھی لکھ دیا جائے کہ میں فلاں جگہ زمین لینا چاہتا ہوں ، خواہ یہ جگہ وہی ہو جہاں اُسے عارضی گزارہ کے لئے زمین مل چکی ہے یا کوئی دوسری جگہ ہو۔مگر عموما جس ضلع میں کوئی شخص پہلے سے زمین لے چکا ہے اسی ضلع میں زمین کی درخواست دینی چاہیئے بلکہ بعض اضلاع میں تو اس کے خلاف درخواست دینے کی اجازت ہی نہیں۔البتہ جن لوگوں نے ابھی تک کوئی زمین نہیں لی وہ جس ضلع میں چاہیں درخواست دے سکتے ہیں۔۔گزشتہ اعلان میں جو یہ لکھا گیا تھا کہ ایسی درخواستیں یا تو اس ضلع کے سیٹلمنٹ افسر کے پاس