مضامین بشیر (جلد 2) — Page 486
مضامین بشیر ۴۸۶ اراضی کی الاٹمنٹ کے متعلق ایک ضروری اعلان مشرقی پنجاب وغیرہ کے دوست فوری توجہ کریں ا۔بعض زمینداروں میں جنہیں مشرقی پنجاب وغیرہ کے پاکستان میں چلے جانے کے بعد گذارہ کے لئے زمین مل گئی تھی ، یہ غلط فہمی پیدا ہو رہی ہے کہ انہیں نئے فیصلہ کے مطابق کسی مزید درخواست دینے کی ضرورت نہیں، مگر یہ خیال غلط ہے۔سابقہ الاٹمنٹ محض گزارہ کے لئے وقتی طور پر تھی اور تھوڑے رقبہ کے لئے تھی لیکن اب ہر شخص کے ضائع شدہ رقبہ کے مقابلہ پر پختہ اور پوری الاٹمنٹ ہونے والی ہے۔اس لئے خواہ کسی کو زمین مل چکی ہے یا نہیں ملی ، اگر وہ مشرقی پنجاب وغیرہ میں زمین چھوڑ کر آیا ہے تو اسے جدید قانون کے مطابق نئی درخواست دینی چاہیئے جس کے لئے گورنمنٹ کی طرف سے طبع شدہ فار میں مقرر ہیں۔اس درخواست میں اپنی ضائع شدہ اراضی کی تفصیل دے کر اس کے مقابلہ پر پختہ الاٹمنٹ کا مطالبہ کیا جائے اور فارم کے سارے خانے احتیاط کے ساتھ بھرے جائیں اور یہ بھی لکھ دیا جائے کہ میں فلاں جگہ زمین چاہتا ہوں خواہ یہ جگہ وہی ہو جہاں اسے عارضی گذارہ کے لئے زمین مل چکی ہے یا کوئی دوسری جگہ ہو۔ایسی درخواست یا تو اس ضلع کے سیٹلمنٹ افسر کے پاس پیش کی جاسکتی ہے جہاں کوئی شخص اس وقت رہ رہا ہو اور یا اس ضلع کے افسر کے پاس پیش کی جاسکتی ہے جہاں وہ آئندہ زمین لینا چاہتا ہو۔چونکہ طبع شدہ فارم کسی قدر پیچدار ہے اس لئے مقامی سمجھدار احمدیوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے ناخواندہ بھائیوں کی اس معاملہ میں پوری پوری امداد کریں اور فارم کو پڑھ کر اس کے کوائف کو اچھی طرح سمجھ لیں۔یہ فارم ایک آنہ میں ہر ضلع میں ملتی ہیں۔۲۔قادیان اور اس کے ملحقہ دیہات سے آئے ہوئے دوستوں کے متعلق ۲ فروری کے الفضل میں علیحدہ تفصیلی اعلان کیا جا چکا ہے۔گو اوپر کی اصولی ہدایت انہیں بھی مد نظر رکھنی چاہیئے۔۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ ایسی درخواستوں کے دینے کے لئے ہر ضلع میں علیحدہ علیحدہ میعاد مقرر ہے۔مگر بعض ضلعوں میں یہ میعاد ۱۴ / فروری ۱۹۴۹ء کوختم ہوتی ہے۔گو بعض ضلعوں میں اس سے زیادہ بھی ہے۔بہر حال احتیاطاً اس معاملہ میں فوراً توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مطبوعہ الفضل ۷ فروری ۱۹۴۹ء)