مضامین بشیر (جلد 2) — Page 480
مضامین بشیر ۴۸۰ جہاں تک ہمارے اصول کا سوال ہے اور یہ اصول وہی ہے جس کی اسلام نے تعلیم دی ہے۔جماعت احمدیہ کا یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ جس حکومت کے ماتحت بھی احمدی جماعت کے افرادر ہیں ، انہیں اس کا وفا دار اور پر امن شہری بن کر رہنا چاہیئے۔لیکن اس اصول کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ انڈین یونین میں رہنے والا کوئی احمدی اپنے مذہبی عقیدہ کو چھپائے یا ایسی باتیں زبان پر لائے جو مداہنت یا خوشامد کا رنگ رکھتی ہوں۔مومن ہمیشہ بہادر ہوتا ہے اور اسلام مسلمانوں کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ ہر حال میں اخلاقی جرات سے کام لیں اور اپنے عقائد کے اظہار میں کسی حالت میں بھی خائف نہ ہوں اور وفاداری کے اظہار میں بھی خوشامد کا طریق یا بے وقار رنگ اختیار نہ کریں۔قادیان میں رہنے والے دوستوں کو بھی ہماری طرف سے مذہبی رنگ میں یہی ہدایت بھجوائی گئی ہے اور خدا کے فضل سے وہ اس ہدایت پر پوری طرح سے کاربند ہیں۔اس تمہیدی نوٹ کے ساتھ سید وزارت حسین صاحب کے خط کا ترجمہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔خاکسار سٹیٹسمین مرزا بشیر احمد جناب ایڈیٹر صاحب اخبار گذشتہ ماہ ہمارے قادیان جانے کے سلسلہ میں آپ کے امرتسر کے نامہ نگار نے جو خبر آپ کو ارسال کی تھی اس کے متعلق میں بعض غلط فہمیوں کا ازالہ ضروری سمجھتا ہوں۔ہوسکتا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ باتیں اتنی اہم نہ ہوں لیکن ہمارے نزدیک وہ بہت اہم ہیں کیونکہ ان کا ہمارے عقائد کے ساتھ تعلق ہے۔مجھے کچھ عرصہ کے لئے اپنے گاؤں جانا پڑا تھا اس لئے اس خط کے ارسال کرنے میں کسی قدر تاخیر ہوگئی۔آپ کی اشاعت کے بعد مجھے بہت سے احمدی مسلمانوں کی طرف سے احتجاجی خطوط بھی موصول ہوئے ہیں۔آپ کے نامہ نگار نے اپنی خبر میں یہ ظاہر کیا ہے کہ گویا میں نے گاندھی جی کو بنی نوع انسان کا بالعموم اور مسلمانوں کا بالخصوص سب سے بڑا محسن قرار دیا ہے اس قسم کا نظریہ ہمارے مذہب اور عقائد کے خلاف ہے۔لہذا میں یہ الفاظ کسی طرح زبان پر نہیں لاسکتا تھا۔ہمارے عقائد کی رو سے حضرت کرشن ، حضرت موسی ، حضرت بدھ ، حضرت عیسی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً گاندھی جی سے بنی نوع انسان کے بہت زیادہ محسن تھے۔اسی طرح میرے عقیدہ کے مطابق اس زمانے میں حضرت احمد علیہ السلام آف قادیان اپنے آقا سید المرسلین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام بنی نوع انسان