مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 460 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 460

مضامین بشیر ۴۶۰ ہیں۔اسی قسم کا سوال گو اس سے بہت زیادہ دانشمندانہ رنگ میں صحابہ نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا۔یعنی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب مومن خدا کو دیکھیں گے تو گو اس کے اصل معنی تو خدا کی کامل اور بر ملا تجلی کے تھے مگر صحابہ نے اپنی محبت کے جوش میں یہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ قیامت میں تو اگلی پچھلی مخلوق ایک جگہ ہوگی پھر وہ سب خدا کو بہ یک وقت کس طرح دیکھ سکیں گے ؟ تو اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت کے ساتھ فرمایا اور سبحان الله کیا خوب فرمایا کہ کیا جب ساری دنیا پر چاند طلوع ہوتا ہے تو تم اسے دیکھنے میں کسی قسم کی دقت یا اثر دھام محسوس کرتے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں۔آپ نے فرمایا تو پھر اسی پر تم اپنے سوال کے جواب کا قیاس کرلو۔اور حق یہ ہے کہ اصولی طور پر یہی ہمارے موجودہ سوال کا جواب ہے اور وہ یہ نعوذ باللہ ہمارا خدا محمد و دصورت اختیار کر کے اور محدود طاقتوں کے اندر جکڑا جا کر ہمارے پاس نہیں بیٹھا ہو ا کہ اس کے متعلق یہ سوال پیدا ہو کہ وہ ایک ہی وقت میں ساری دنیا کی دعائیں کس طرح سن سکتا ہے؟ وہ با وجود نزدیک ہونے کے اسقدر وراء الوراء ہے کہ اس کی یہ دوری ہی اثر دھام کی مانع ہے اور اس کی سننے کی طاقت ہمارے مادی کانوں سے اس قدر مختلف ہے کہ انسان کی محدود طاقتوں پر اس کی لامحدود طاقتوں کو قیاس کرنا جہالت ہی نہیں بلکہ مضحکہ خیز ہے۔کیونکہ خدا کی ذات کی طرح اس کی یہ صفت بھی لامحدود پہلو رکھتی ہے اور آوازوں کا تجزیہ اس کے لئے ہر گز کوئی مشکل کام نہیں بل هو على ربّكم هین یا اولی الالباب - پس اس وقت میں ان سوالوں کا یہی مختصر جواب دوں گا کیونکہ مفصل جواب کی نہ تو اس وقت میرے پاس فرصت ہے اور نہ الفضل کے کالموں میں اس کی گنجائش ہے۔البتہ جو دوست مفصل جواب چاہیں وہ حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کی لطیف تصنیف ” ہستی باری تعالیٰ“ اور خاکسار کی تصنیف ”ہمارا خدا کا مطالعہ کر کے فائدا اٹھا سکتے ہیں جن میں اس قسم کے سب سوالوں کا مفصل جواب موجود ہے۔وما توفيقنا الا بالله العظیم۔( مطبوعه الفضل ۲۵ / دسمبر ۱۹۴۸ء)