مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 35 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 35

۳۵ مضامین بشیر بنصرہ العزیز بسا اوقات اپنے ماتحت کارکنوں پر ایسی سخت گرفت فرماتے ہیں کہ جو بظاہر انتہائی درشتی کا رنگ رکھتی ہے۔حالانکہ آپ صرف خلیفہ وقت ہی نہیں بلکہ مصلح موعود بھی ہیں اور حسن واحسان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نظیر بھی۔میں نے اس وقت لمبی بحث سے احتراز کرنے کے لئے سرسری طور پر جواب دیا کہ امام کو بعض اوقات مفا د سلسلہ کے ماتحت سختی بھی کرنی پڑتی ہے اور اس کے برداشت کرنے میں ہی جماعت کے لئے برکت ہے۔اس دوست نے کہا کہ کبھی کبھا ریختی کا رنگ پیدا ہو جانا اور بات ہے مگر یہاں تو کثرت کے ساتھ یہی صورت نظر آتی ہے اور بعض اوقات تو انتہائی سختی کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں کبھی نہیں پایا گیا۔میں نے کہا تو پھر بھی کوئی حرج نہیں۔کیونکہ حضرت عمر کے متعلق بھی یہی اعتراض پیدا ہو ا تھا۔حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ اعتراض کبھی نہیں ہوا۔علاوہ ازیں سخت گیری کی پالیسی تو ایک طرح سے مصلح موعود کی نشانی ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہاموں میں صاف آتا ہے کہ وہ یعنی مصلح موعود ” جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔پس گھبراؤ نہیں اور اپنے دل کو ذرا کڑا کر کے رکھو کیونکہ یہ ” جلالِ الہی خدائی منشاء کے مطابق ہے اور جماعت کی بہتری کے لئے ہے۔اس پر یہ دوست بولے کہ میں خدا کے فضل سے منافق نہیں اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ سے دلی عقیدت اور اخلاص رکھتا ہوں مگر صرف تشریح اور تسلی کے خیال سے پوچھتا ہوں کہ مصلح موعود کے متعلق حلیم کا لفظ بھی تو آیا ہے اور بظاہر یہ تختی حلم و بردباری کے طریق کے خلاف نظر آتی ہے۔اس اعتراض پر میں ایک سیکنڈ کے لئے رکا مگر قبل اس کے کہ اس دوست نے میرے رکنے کو محسوس کیا ہو۔خدا تعالیٰ نے اچانک میرے دل میں ایک خیال ڈالا اور میں نے اس دوست سے تجاہل کے رنگ میں پوچھا کہ مصلح موعود کو حلیم کس الہام میں کہا گیا ہے؟ مجھے تو کوئی ایسا حوالہ یاد نہیں۔یہ دوست غالباً اس خیال سے کہ بس اب میں نے میدان مار لیا فوراً بولے کہ وہ جو فروری ۱۸۸۶ ء کی وحی میں آتا ہے کہ وہ سخت ذہین و نہیم ہوگا اور دل کا حلیم اس میں مصلح موعود کے متعلق صاف طور پر حلیم“ کا لفظ بولا گیا ہے۔اور حلیم کے معنی چشم پوشی اور درگزر کرنے والے کے ہیں۔میں نے کہا بس آپ کی بحث ختم ہو چکی ہے اب میری سنو کہ یہاں ” دل کا حلیم کہا گیا ہے نہ کہ صرف حلیم“ اور ان دونوں کے مفہوم میں بھاری فرق ہے۔کیا وہ خدا جس نے قرآن شریف میں حضرت ابراہیم کے متعلق حلیم کا لفظ استعمال فرمایا اور پھر ان کے صاحبزادہ حضرت اسمعیل کو بھی اسی لقب سے یاد کیا۔وہ مصلح موعود کے متعلق خالی حلیم کا لفظ استعمال نہیں کر سکتا تھا۔پس جب خدائے علیم نے حلیم کے سادہ اور مختصر لفظ کو ترک کر کے اس کی جگہ " دل کا حلیم" کا مرکب اور طولانی محاورہ اختیار فرمایا تو یقیناً یہ استعمال بے وجہ نہیں ہوسکتا۔" 6 ۲۳ ۲۲