مضامین بشیر (جلد 2) — Page 448
مضامین بشیر ۴۴۸ میں اپنے ضلع کے ڈپٹی کسٹوڈین کے پاس درخواست دینی چاہئے اور اس درخواست میں اس آمدن کا ذکر کر دینا چاہئے جو درخواست کنندہ کو اپنی ضائع شدہ جائیداد سے سالانہ یا ماہوار حاصل ہوتی تھی۔ایک دوست اپنے خط میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ اب جب کہ پاکستان میں ساری مترو کہ جائیدادیں الاٹ ہو چکی ہیں تو اس قسم کی درخواست کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔اس کے جواب میں لکھا جاتا ہے کہ اب بھی وہ لاکھوں ایکڑ زمین موجود ہے جو غیر مسلموں کی متروکہ ہے۔مگر ابھی تک اس پر ایسے مسلمان کا شتکار بیٹھے ہوئے ہیں جو مالکان اراضی نہیں۔علاوہ ازیں جب گورنمنٹ نے خود کھاتہ وار معیار کے مطابق نئی درخواستیں مانگی ہیں تو یہ فکر تو گورنمنٹ کو ہونا چاہئے نہ کہ درخواست کنندہ کو۔( مطبوعه الفضل ۱۵ / دسمبر ۱۹۴۸ء)