مضامین بشیر (جلد 2) — Page 447
۴۴۷ مضامین بشیر عارضی الائمنٹ کے متعلق ضروری تشریح چند دن ہوئے میں نے الفضل میں احباب کی ہدایت کے لئے یہ اعلان کروایا تھا کہ قادیان اور اس کے ملحقہ دیہات کی ضائع شدہ جائیداد کے بدلہ میں عارضی الاٹمنٹ کرائی جاسکتی ہے۔اس پر بعض دوستوں کی طرف سے یہ سوال پہنچا ہے کہ جیسا ہم نے شروع میں اپنا نقصان رجسٹر کراتے ہوئے یہ لکھ دیا تھا قادیان ہماری مقدس جگہ ہے ہم اس کی جائیداد کے بدلہ میں کسی جائیداد کا مطالبہ نہیں کرتے تو اب یہ مطالبہ کس طرح کیا جاسکتا ہے۔سو دوستوں کے اس سوال کے جواب میں لکھا جاتا ہے کہ یہ دونوں باتیں متضاد نہیں ہیں۔جس بات سے روکا گیا تھا وہ یہ تھی کہ قادیان کی جائیداد پر اپنا حق ترک کر کے اس کے مقابل پر کوئی جائیداد مستقل طور پر قبول کر لی جائے۔لیکن موجودہ صورت میں جس بات کی اجازت دی گئی ہے وہ صرف عارضی الاٹمنٹ ہے جس سے قادیان کی جائیداد کا مطالبہ ترک نہیں ہوتا بلکہ میں نے تو اپنے سابقہ اعلان میں یہ صراحت بھی کر دی تھی کہ عارضی الاٹمنٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ لکھ دیا جائے کہ قادیان ہماری مقدس جگہ ہے اور قادیان کی جائیداد کے متعلق اپنا حق کبھی ترک نہیں کر سکتے بلکہ صرف گذارہ کی غرض سے اس کے مقابل پر عارضی الاٹمنٹ چاہتے ہیں اور یہ کہ جونہی کہ ہمیں قادیان واپس ملے گا ہم اس عارضی الاٹمنٹ سے دست بردار ہو جائیں گے۔اس قسم کی درخواست پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔دوستوں کی اطلاع کے لئے میں یہ پھر دہرانا چاہتا ہوں کہ اب جب کہ جائیداد کے مقابلہ پر کھانہ وار معیار کے بمطابق الاٹمنٹ ہوگی تو گورنمنٹ نے اس کے لئے لاہور میں ایک فنانشل کمشنر سیٹلمنٹ کا عہدہ قائم کر دیا ہے اور اس فنانشل کمشنر لاہور کے ماتحت ہر ضلع میں سیٹلمنٹ آفیسر مقرر کئے گئے ہیں۔پس ان کو چاہئے کہ جس ضلع میں وہ الاٹمنٹ ہوں اس ضلع کے سیٹلمنٹ آفیسر کو مخاطب کر کے درخواست دیں اور اس درخواست میں اپنی ضائع شدہ جائیداد کی تفصیل درج کر دیں اور اگر اس سے قبل ان کے نام کوئی جزوی الاٹمنٹ ہو چکی ہو تو اس کا بھی ذکر کر دیں۔جو دوست جائیداد کی صورت میں الاٹمنٹ نہ چاہتے ہوں وہ نقدی کی صورت میں الاٹمنٹ کی درخواست دے سکتے ہیں۔مگر ایسی درخواست کے لئے علیحدہ عملہ مقرر ہے یعنی لاہور میں ایک مرکزی کسٹوڈین مقرر ہے اور اس کے ماتحت ہر ضلع میں ڈپٹی کسٹوڈین مقرر ہیں۔پس نقد الائمنٹ کی صورت