مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 441 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 441

۴۴۱ مضامین بشیر میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ خوش قسمت صحابہ کون سے ہوں گے آیا وہ پرانے صحبت یافتہ اصحاب میں سے ہوں گے۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے نوجوانوں یا بچوں میں سے ہوں گے مگر میں یقین رکھتا ہوں اور تذکرہ کے مطالعہ سے میں یہی سمجھا ہوں کہ ابھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابیوں کا ایک حصہ زندہ ہو گا کہ انشاء اللہ قادیان ہمیں واپس مل جائے گا۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِااللَّهِ الْعَظِيمِ - ( دوسری بات ) جو میں قیاسی رنگ میں سمجھا ہوں یہ ہے کہ قادیان کی واپسی کو غالباً نئے مرکز ربوہ کے قیام کی تجویز کی تکمیل کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے۔خدا کا جماعت احمدیہ کو قادیان سے نکالنا یونہی ایک عبث فعل نہیں تھا۔بلکہ یہ اس کی تقدیروں میں سے ایک اہم تقدیر تھی اور وہ اس ذریعہ سے جماعت کو ایک امتحان میں سے گزارنا چاہتا تھا اور ایک قربانی کی بھٹی میں ڈال کر پھر باہر نکالنا چاہتا تھا۔پس اگر ہم موجودہ منتشر حالت میں ہی پڑے ہوئے واپس پہنچ جائیں تو بظاہر ہمارا یہ امتحان ایک عبث فعل بن جاتا ہے۔ہاں اگر ہم خدائی مشن کو پورا کر لیں اور ایک قائم مقام مرکز بنا کر اس میں اپنا کام شروع کر دیں اور قربانی کے معیار پر پورے اتر آئیں تو پھر بے شک ہمارا امتحان مکمل ہو جائیگا۔جو قادیان کی واپسی سے تعلق رکھتا ہے۔ذَالِکَ ظَنِّي بِااللَّهِ وَاَرْجُوا مِنْهُ خَيْراً۔دو قسم کی خدائی تقدیریں اب رہا یہ سوال کہ قادیان کی واپسی کس صورت میں ہوگی۔سو یہ پھر خدا کے غیبوں میں سے ایک غیب ہے جسے صرف وہی جانتا ہے جو غیبوں کا مالک ہے۔مگر جہاں تک میں نے خدا کی صفت کا مطالعہ کیا ہے مجھے یہ نظر آتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے مقاصد کو دو طرح سے پورا فرما یا کرتا ہے ایک ایسے رنگ میں کہ اس کی تقدیر اور اس کی تدبیر کا ہر قدم ساتھ ساتھ نظر آتا جاتا ہے۔اور تمام دیکھنے والے اس کی رفتار کو دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔اور دوسرے ایسے رنگ میں کہ اس کی تقدیر کی تاریں ایک غیبی پردہ کے پیچھے مخفی رنگ میں کام کرتی ہیں اور پھر کسی وقت اچانک یہ پردہ اٹھتا ہے اور اس کی تقدیر کا ائل نتیجہ سامنے آجاتا ہے۔ان دونوں قسم کی تقدیروں کو خدا نے اپنے پاک کلام قرآن شریف میں بیان فرمایا ہے چنانچہ ایک جگہ فرماتا ہے : ۱۳۲ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا د یعنی کیا لوگ ( بلکہ کا فرتک ) ہماری اس کھلی کھلی تقدیر کو نہیں دیکھ رہے کہ ہم ہر لحظہ چاروں طرف کی زمین کو کاٹتے ہوئے اپنے مرکزی نقطہ کے قریب آتے جار ہے