مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 442 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 442

مضامین بشیر ۴۴۲ ہیں۔یہ وہ تقدیر عریاں ہے جس کا ہر قدم کھلم کھلا اٹھایا جاتا ہے اور ہر دیکھنے والے کو نظر آتا ہے کہ یہ تقدیر دنیا کو آہستہ آہستہ کسی نتیجہ کی طرف لے جارہی ہے“ مگر اس کے مقابلے پر دوسری جگہ قرآن شریف یہ فرماتا ہے کہ : يَسْتَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَهَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لَا يُجَلِّيهَا ۱۳۳ لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ثَقُلَتْ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً د یعنی اے نبی تجھ سے یہ کفار اس ساعت کے متعلق پوچھتے ہیں جو ان کی تباہی کے سلسلے میں مقدر ہے وہ کب قائم ہوگی تو ان سے کہہ دے کہ اس کا علم خدا کے پاس محفوظ ہے مگر وہ آئے گی ضرور۔اور اچانک آئے گی یہ وہ دوسری قسم کی الہی تقدیر ہے جس کی تیاری پردہ کے پیچھے ہوتی ہے اور دنیا کو وہ اسی وقت نظر آتی ہے کہ جب اچانک یہ پردہ اٹھتا ہے اور موعود گھڑی آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔قادیان کس طرح واپس ملے گا یہی دونوں تقدیر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں مقدر ہیں۔کیونکہ حضور کو بھی یہ دونوں قسم کے الہامات ہو چکے ہیں اور ان دونوں کا ذکر تذکرہ میں موجود ہے۔مگر جہاں تک قادیان کی واپسی کے سوال کا تعلق ہے تذکرہ کے مطالعہ سے مجھے یہی پتہ لگتا ہے کہ وہ بغتة والی تقدیر کے ساتھ وابستہ ہے۔چنانچہ جماعت کے امتحانوں کے ذکر کے تعلق میں خدا تعالی فرماتا ہے : ۱۳۴ إِنِّي مَعَ الْأَفْوَاجِ اتِيُكَ بَغْتَةً د یعنی میں اس امتحان کے بعد تیری مدد کے لئے اپنی فوجوں کو ساتھ لے کر اچانک آؤں گا اس وحی الہی سے پتہ لگتا ہے کہ خدا کی ازلی حکمت نے یہی مقدر کر رکھا ہے کہ قادیان کی واپسی کی ساری تیاری آسمان پر پس پردہ تکمیل کو پہنچے اور پھر دنیا میں اچانک ظاہر ہو۔وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب وَلَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْنَا لیکن ہمارے خدا کا یہ بھی قانون ہے کہ وہ ہر بات میں آسمانی تقدیر اور زمینی تدبیر کو پہلو بہ پہلو چلانا چاہتا ہے۔پس جب تقدیر کا عمل مخفی ہو تو بے شک انسان اس کی تفاصیل میں تو اس کے ساتھ ساتھ نہیں چل سکتا۔مگر اس صورت میں اس کا یہ کام ضرور ہوتا ہے کہ کم از کم دعاؤں اور عمل صالح کے ذریعہ خدا کی تقدیر کو تقویت پہنچائے اور یہی اس وقت ہماری جماعت کا فرض ہے کہ قادیان کی واپسی