مضامین بشیر (جلد 2) — Page 435
۴۳۵ مضامین بشیر ہے تب تیری دعا منظور ہوگی اور تو خدا کی قدرت کے عجائبات دیکھے گا۔۱۲۸ سو میرے عزیز بھائیو اور بہنو! مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔خدا سے دعا مانگنے کی عادت ڈالو اور اپنی دعاؤں میں زندگی کی وہ روح پیدا کرو جو خدا کی رحمت کو کھینچتی ہے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ خدا کے بنائے ہوئے ظاہری اسباب کو بھی اختیار کرو کیونکہ تقدیر کے ساتھ ساتھ تدبیر کا سلسلہ بھی جاری رہنا چاہئے۔نیز ضروری ہے کہ جب تم اولاد کی خواہش کر دیا اسکے لئے دعا مانگوتو دنیا داروں کی طرح صرف یہ نیت نہ رکھو کہ تمہیں اپنے گھر کی رونق یا اپنے دنیا کے دھندوں یا اپنے شرکا کے مقابلہ یا اپنی جائداد کے ورثہ کے لئے کوئی سہارا حاصل ہو جائے بلکہ یہ نیت رکھو یہ تمہیں تمہارے نیک اوصاف کا وارث مل جائے اور نیک اولاد پیدا ہونے سے دنیا میں نیکی کو ترقی حاصل ہوا اور خدا کی جماعت بڑھے اور پھیلے۔اگر تم ایسا کرو گے تو سوائے اس کے کہ خدا کی کوئی خاص تقدیر تمہارے رستہ میں روک ہو جائے تم یقینا اس کی رحمت کو پاؤ گے اور اس کے اس فضل کے وارث بنو گے اور اس کے اس انعام کو حاصل کرو گے جو پہلوں نے حاصل کیا بلکہ اس سے بڑھ کر۔کیونکہ تم آخرین منھم کے وعدہ میں شامل ہو کر خدا کی آخری جماعت ہو۔اور اگر کسی باپ کا بیٹا نا لائق یا نا فرمان نہ ہوتو فطرتاً باپ کو اپنا آخری بیٹا زیادہ پیارا ہوا کرتا ہے۔اے خدا تو ایسا ہی کر۔- وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِين۔نوٹ : مجھے ایک بات یاد آئی ہے جو لکھ دیتا ہوں شاید یہ بھی کسی کی امید کو اٹھانے والی بن جائے۔قریباً اڑھائی سال کا عرصہ ہوا کہ جب میں قادیان میں تھا تو میں نے ایک خاتون کے متعلق (جس کے متعلق بظاہر اولاد کی کوئی امید نہیں سمجھی جاتی ) خواب میں دیکھا کہ اس کے گھر لڑکی پیدا ہوئی ہے جسے میں نے اپنی گود میں اٹھایا ہوا ہے۔اس کے بعد جبکہ یہ خواب بھی قریباً ذہن سے اتر چکی تھی میں نے اچانک پرسوں خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص عزیزم میاں شریف احمد صاحب کے متعلق کہتا ہے کہ انہوں نے خواب دیکھی ہے کہ فلاں خاتون کے گھر ( وہی میری خواب والی خاتون ) لڑکا پیدا ہوا ہے یہ سن کر میں خواب میں ہی کہتا ہوں کہ میں نے تو لڑ کی دیکھی تھی اب دیکھئے خدا کا منشاء کس رنگ میں ظاہر ہوتا ہے۔خیر یہ تو ابھی تک پر وہ غیب کی باتیں ہیں اور نہیں کہہ سکتے کہ لڑکی یا لڑکے سے کیا مراد ہے مگر اس حقیقت کو کون نہیں جانتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعاؤں سے کئی بظاہر مایوس الحال لوگوں کے گھر اولاد پیدا ہو چکی ہے اور ہمارے سلسلہ کی تاریخ اس قسم کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔پس بہر حال مایوسی کی کوئی وجہ نہیں اور حضرت ابراھیم کا یہ کیا ہی پیارا قول ہے کہ : وَمَنْ يَقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبَّةٍ إِلَّا القَالُوْنَO ( مطبوعه الفضل ۱۱ر دسمبر ۱۹۴۸ء)