مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 434 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 434

مضامین بشیر ۴۳۴ کی سفیدی کی وجہ سے شعلے مارنے لگا ہے۔مگر باوجود اس کے اے میرے آقا میں کبھی تجھے پکار کر نا مراد نہیں رہا۔اس پر ہم نے ذکر یا کو بشارت دی کہ ہم تجھے ایک لڑکا عطا کریں گے جس کا نام بیٹی ہوگا۔ہم نے اس نام ( یعنی اس صفت ) کا کوئی شخص پہلے نہیں بنایا۔ذکریا نے کہا۔میرے آقا میرے گھر میں کس طرح بچہ پیدا ہو گا حالانکہ میری بیوی تو بانجھ ہے اور میں خود بھی بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں ؟ خدا نے فرمایا بیشک ایسا ہی ہے مگر تیرے رب کے لئے تو کوئی چیز مشکل نہیں۔اور کیا تجھے یہ معلوم نہیں کہ ہم نے خود تجھے اس حال میں پیدا کیا تھا کہ تو اس سے پہلے کوئی چیز نہیں تھا۔یہ دولطیف مثالیں خدا نے قرآن شریف میں قصے کہانی کے طور پر بیان نہیں کیں بلکہ اس لئے بیان کی ہیں کہ تا یہ ظاہر کرے کہ اسلام کا خدا تمام قدرتوں کا مالک ہے۔اور وہ ایسے حالات میں بھی اپنے فضل کا دروازہ کھول سکتا ہے۔کہ جب بظاہر امید کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی۔واقعی دیکھو اور غور کرو کہ حضرت ابراھیم اور حضرت ذکریا کی بیویاں دونوں بوڑھی پھوس تھیں جن میں سے ایک عجو ز یعنی بالکل رہ چکی تھی (غالباً عام بڑھاپے کے علاوہ ایام ماہواری کے بند ہو چکنے کی طرف بھی اشارہ ہے ) اور دوسری عاقر یعنی بانجھ تھی جس کے متعلق بظاہر اولاد کی کوئی امید نہیں ہوتی۔دوسری طرف ان دونوں کے خاوند بالکل بوڑھے اور پیر فرقوت تھے۔جن میں سے ایک کی عمر بائیل کے بیان کے مطابق نوے ۹۰ سال کی تھی اور دوسرا خود اپنی زبان سے کہتا ہے کہ میرا سر بڑھاپے کی سفیدی سے شعلہ زن ہے اور میری ہڈیاں اندر سے کھائی جا چکی ہیں۔مگر خدا فرما تا ہے کہ جب دینے والے ہم ہیں جو سب قدرتوں کے مالک ہیں تو پھر تم مایوس کیوں ہوتے ہو؟ اللہ اللہ ! کیا شان دلربائی ہے اور کیا جذبہ رحمت وشفقت ہے کہ لینے والا تو مایوسی کے عالم میں پیچھے پیچھے ہٹ رہا ہے مگر دینے والا اسے کھینچ کھینچ کر آگے لا رہا ہے ! حق یہ ہے کہ سوائے اس کے کہ خدا خود کسی بات کے متعلق کہہ دے کہ میں یہ بات نہیں کرونگا کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا خوب فرماتے ہیں: اس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں مگر وہی جو اس کی کتاب اور وعدہ کے برخلاف ہے۔سو جب تم دعا کرو تو ان جاہل نیچریوں کی طرح نہ کرو جو اپنے ہی خیال سے ایک قانون قدرت بنا بیٹھے ہیں۔جس پر خدا تعالیٰ کی کتاب کی مہر نہیں کیونکہ وہ مردود ہیں۔ان کی دعائیں ہرگز قبول نہیں ہوں گی۔۔۔خدا کے سامنے اپنا تراشیدہ قانون پیش کرتے ہیں اور اس کی بے انتہا قدرتوں کی حد بست ٹھہراتے ہیں اور اسکو کمزور سمجھتے ہیں سوان سے ایسا ہی معاملہ کیا جائے گا جیسا کہ ان کی حالت ہے۔لیکن جب تو دعا کے لئے کھڑا ہو تو تجھے لازم ہے کہ یہ یقین رکھے کہ تیرا خدا ہر ایک چیز پر قادر