مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 430 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 430

مضامین بشیر ۴۳۰ جماعت کی تعداد کو کثرت اولاد کے ذریعہ بھی ترقی دو بے اولا دلوگوں کو بھی مایوسی کی کوئی وجہ نہیں اسلام کا خدا وسیع قدرتوں کا مالک ہے خدائی جماعتیں ہر لحاظ سے ترقی کرتی ہیں یعنی دین کے لحاظ سے بھی اور دنیا کے لحاظ سے بھی۔پھر دین کے میدان میں علم کے لحاظ سے بھی اور عمل کے لحاظ سے بھی اور دنیا کے میدان میں تعداد کے لحاظ سے بھی اور طاقت کے لحاظ سے بھی اور مال و دولت کے لحاظ سے بھی وغیرہ وغیرہ۔اور گوان کے قیام کی اصل غرض و غایت دین اور تعلق باللہ میں ترقی کرنا ہوتی ہے مگر یہ بات خدا کی شان ربوبیت سے بعید ہے کہ وہ ایک خاص جماعت کو قائم کر کے اس کی ترقی کو صرف ایک دائرہ کے اندر محدود کر دے بلکہ وہ جب انعام کرنے پر آتا ہے تو پھر اپنے انعاموں کو گو یا دونو ہاتھوں سے بکھیر تا ہے اور ترقی کے کسی میدان کو بھی نظر انداز نہیں کرتا۔یہی سلوک انشاء اللہ ہماری جماعت کے ساتھ ہوگا۔گو یہ علیحدہ بات ہے کہ اس کی ترقی جمالی صفات کے ماتحت آہستہ آہستہ ہوگی۔جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے که كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْئَهُ فَأَزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظُ بِهِمُ الْكُفَّارَ - ۱۲۳ دینی اور روحانی ترقی کے بعد دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ اہم اور زیادہ وسیع الاثر ترقی تعداد کی ترقی ہے کیونکہ اس ترقی کے ساتھ بہت سی دوسری ترقیاں بھی وابستہ ہوتی ہیں جو تعداد کی ترقی کے بغیر حاصل کرنی محال ہیں اور میرا موجودہ مضمون اسی نوع کی ترقی کے ساتھ رکھتا ہے یعنی یہ کہ جماعت احمدیہ کی تعداد کو کس طرح بڑھایا جا سکتا ہے۔سو اصولی رنگ میں اس قدر تو ظاہر ہے کہ تعداد کی ترقی کے دو ہی خاص ذریعے ہیں۔اوّل تبلیغ۔یعنی دعوت الی الحق کے طریق پر جماعت کی تعداد کو بڑھانا اور لوگوں کو احمدیت کے عقائد سمجھا کر اور ان کی صداقت کا قائل کر کے جماعت احمدیہ میں شامل کرنا۔اور دوسرا طریق کثرت اولاد کا ہے۔