مضامین بشیر (جلد 2) — Page 427
۴۲۷ مضامین بشیر ایسا سلسلہ قائم ہو جاتا ہے جو خدا کے فضل سے جماعت کی بنیادوں کو ہمیشہ کے لئے پاکیزگی اور طہارت پر استوار کر سکتا ہے۔کاش ہمارے بھائی اور بہنیں اس نکتہ کو سمجھیں اور اس سے وہ عظیم الشان فائدہ اٹھائیں جس کا یہ نسخہ حقدار ہے۔مگر میں یہ بات بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس نسخہ کا استعمال اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہ وہ بظاہر سمجھا جاتا ہے بلکہ اس کے لئے پہلے سے تیاری اور ضبط نفس کی ضرورت ہوتی ہے دراصل چونکہ خاوند بیوی کا مخصوص تعلق ایک خاص نفسانی جوش کا حامل ہوتا ہے اس لئے اس وقت اس قسم کی دعا زبان پر لا نا ہرگز آسان نہیں ہوتا۔ہمارے حکیم وعلیم خدا نے روح اور جسم کا قانون کچھ اس رنگ میں بتایا ہے کہ ان میں سے ایک کی مضبوطی دوسرے کی کمزوری بن جاتی ہے اور ایک کی کمزوری دوسرے کی طاقت کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔پس جب نفس یعنی جسم کے جذبات زور پر ہوں تو روح کو ابھارنا آسان نہیں ہوتا۔اور جب روح ابھرنے کے لئے تیار ہوتی ہے تو جسم کی طاقتیں ڈھیلی پڑنی شروع ہو جاتی ہیں۔لہذا جب تک پہلے سے تیاری نہ ہو اور انسان اپنے آپ کو اس کا عادی نہ بنالے اس وقت تک اس دعا کا دل سے نکلنا تو الگ رہا زبان پر بھی اس کے الفاظ کا لا نا مشکل ہوتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ (اور نیک غرض کے ماتحت حق بات کہنے میں شرم نہیں ہونی چاہیئے ) کہ جب میں ابھی بالکل نوجوان تھا تو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مبارک ارشاد کو حدیث میں پڑھ کر اس پر عمل کرنا چاہا تو اولاً تو میں اس وقت یہ دعا ہی زبان پر نہ لا سکا اور جب بالآخر کوشش کے ساتھ اسے زبان پر لایا تو ساتھ ہی میں نے محسوس کیا کہ گویا اس وقت میری جسمانی کیفیت سلب ہو گئی ہے۔اُس وقت مجھے یہ نکتہ حل ہوا کہ حقیقتاً یہ چھوٹی سی آسان دعا بھی کوئی منتر جنتر نہیں ہے بلکہ اس کے لئے پہلے سے تیاری اور ضبط نفس کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ یہ امید موہوم ہے کہ انسان عین وقت پر جبکہ نفسانی جذبات کا ہجوم ہوتا ہے یہ پاک اور مطہر دعا زبان پر لا سکے گا والشاذ کالمعد دوم۔خیر اس کے بعد مجھے خدا نے اس دعا کی تو فیق عطا کی اور نیک اولا د تو بعد کی بات ہے ( وَاَرُجُوا مِنَ اللَّهِ خَيْراً) میں نے اس دعا کو نفس کے جذبات کو بھی مناسب حدود کے اندر رکھنے میں بہت مفید پایا۔بہر حال میں اس وقت اپنے دوستوں کے سامنے یہ آسان ( گواستعمال کے لحاظ سے قدرے مشکل ) نسخہ رکھنا چاہتا ہوں جسے اختیار کر کے وہ اپنے لئے پاک اور صالح اولاد کا رستہ کھول سکتے ہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تحدی کے ساتھ فرمایا ہے کہ جو میاں بیوی خلوت کے وقت میں یہ دعا پڑھیں گے تو اگر اس وقت ان کے لئے کوئی اولا د مقدر ہوگی تو خدا کے فضل سے یہ اولا د شیطانی اثرات سے محفوظ رہے گی۔میں اپنے ناظرین کی سہولت کی غرض سے اس جگہ پوری حدیث دہرا دیتا