مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 414 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 414

مضامین بشیر ۴۱۴ علم النفس کا ایک لطیف نکتہ ہمارے مقدس آقاصلی اللہ علیہ وسلم کا کیا ہی مبارک ارشاد ہے کہ: من قال هلک القوم وفهواهلكهم IA یعنی جو شخص کسی قوم یا کسی پارٹی کے متعلق یہ کہتا ہے کہ وہ ہلاک ہوگئی۔وہ اس قسم کے الفاظ کہہ کر خود انہیں ہلاکت کے گڑھے کی طرف دھکیلتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مبارک قول ایک نہایت گہری نفسیاتی حقیقت پر مبنی ہے۔اور یہ اسی قسم کی بات ہے کہ جیسے بعض اوقات ایک اچھے بھلے آدمی کو بیمار بیمار کہہ کر اس کے اندر اولاً بیماری کی حس اور بالآخر بیماری کی حقیقت پیدا کر دی جاتی ہے۔پس ضروری ہے کہ ہم یونہی لوگوں کو کمیونسٹ کمیونسٹ کہ کر کمیونزم کی طرف نہ دھکیلیں کیونکہ اس طرح ہم کمیونزم کا مقابلہ کرنے کی بجائے اسے بالواسطہ تقویت پہنچانے کا باعث بن جائیں گے۔بیماری کا احساس اور چیز ہے اور اس کا علاج اور چیز دراصل عدم مساوات کا احساس یعنی یہ احساس کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں دولت اور املاک کی وہ منصفانہ تقسیم نہیں پائی جاتی جو ہونی چاہئے صرف ایک بیماری کے احساس کا رنگ رکھتا ہے۔لیکن اس کے مقابل پر کمیونزم یعنی اشتراکیت کا نظام عدم مساوات کی بیماری کے احساس کا نام نہیں بلکہ اس بیماری کے ایک مخصوص قسم کے علاج کا نام ہے۔اور ظاہر ہے کہ یہ دونو باتیں ایک دوسرے سے بالکل جدا اور متفائر ہیں۔جو شخص موجودہ اسلامی سوسائٹی میں عدم مساوات کا احساس رکھتا ہے۔اس کا صرف اتنا مطلب ہے کہ اس کے دماغ نے ایک نقص کو محسوس کیا ہے۔جس کی اصلاح ہونی چاہئے اور اس کی آنکھ نے ایک بیماری کو دیکھا ہے جس کے علاج کی ضرورت ہے مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اس نے اس نقص کے ازالہ اور اس بیماری کے علاج کے لئے کمیونزم والے علاج کو بھی صحیح تسلیم کر لیا ہے۔ہوسکتا ہے کہ اس کے ذہن میں اس بیماری کا کوئی اور علاج موجود ہو۔مثلاً یہ کہ وہ موجودہ اقتصادی نظام کو غیر اسلامی نظام سمجھتا ہو اور اس کی جگہ صحیح اسلامی نظام قائم کرنے کا مؤید ہو۔یا یہ کہ وہ کمیونزم والے علاج کو تو رد کر تا ہو مگر اس کی جگہ کسی اور علاج کی تلاش میں ہو۔پس یہ