مضامین بشیر (جلد 2) — Page 405
۴۰۵ مضامین بشیر ایک غلط فہمی کا ازالہ اور شکر یہ احباب گزشتہ دنوں میں الفضل میں مرزا عزیز احمد صاحب کی اہلیہ کی وفات کی خبر شائع ہوئی تھی۔اس پر کئی دوستوں کو یہ غلط فہمی پیدا ہوئی ہے کہ گویا فوت ہونے والی خاتون ہمارے بھتیجے مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے کی اہلیہ صاحبہ ہیں۔اور گوالفضل میں اس غلط فہمی کا ازالہ بھی کرایا گیا مگر پھر بھی بعض حلقوں میں یہ غلط فہمی اب تک چل رہی ہے۔سو دوبارہ اعلان کیا جاتا ہے کہ فوت ہونے والی خاتون مرزا منور احمد صاحب مرحوم مبلغ امریکہ کی ہمشیرہ تھیں نہ کہ مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے کی اہلیہ جو ہمارے ماموں حضرت میر محمد الحق صاحب کی صاحبزادی ہیں۔اور گوفوت ہونے والی بھی ہمارے عزیزوں میں سے ہیں۔کیونکہ وہ ہماری ممانی کی بہن اور مرزا محمد شفیع صاحب مرحوم کی لڑکی ہیں۔مگر بہر حال وہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی صاحبزادی نہیں۔جو ہمارے بھتیجے مرزا عزیز احمد صاحب ایم۔اے کی اہلیہ ہیں۔فوت ہونے والی خاتون کے خاوند مرزا عزیز احمد لاہور کے رہنے والے ہیں اور پنجاب کے مشہور شاعر بابا ہدایت اللہ صاحب کے پوتے ہیں۔اس موقع پر میں مرحومہ کی عمر رسیدہ والدہ کی طرف سے ان بہنوں اور بھائیوں کا شکر یہ بھی ادا کرتا ہوں۔جنہوں نے اس صدمہ میں ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا یا انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھا۔وہ احباب جماعت سے درخواست کرتی ہیں کہ آئندہ بھی انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھا جائے۔یہ بوڑھی خاتون اپنی آخری عمر میں آکر اوپر تلے کئی صدموں کا شکار ہوئی ہیں۔یعنی سب سے پہلے ہمارے بڑے ماموں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب مرحوم کا انتقال ہوا جو ان کے داماد تھے اور اس کے بعد ان کے بڑے لڑکے مرزا احمد شفیع صاحب بی۔اے فسادات کے دنوں میں قادیان میں شہید ہوئے اور پھر ان کے دوسرے لڑکے مرزا منور احمد صاحب مبلغ امریکہ نے وطن سے بارہ ہزار میل دور وفات پائی۔اور اب آکر ان کی لڑکی رشیدہ بیگم صاحبہ نے انہیں داغ جدائی دیا۔بڑھاپے کی عمر میں یہ اوپر تلے کے غیر معمولی صدمے یقیناً انہیں اس بات کا حقدار بناتے ہیں کہ دوست انہیں اپنی دعاؤں میں یا درکھیں اور ویسے تو ہم خدا کے فضل سے اس بات پر ایمان لاتے ہیں