مضامین بشیر (جلد 2) — Page 399
۳۹۹ مضامین بشیر ہونی چاہیے جس میں اختلاف کا کم سے کم امکان ہوا اور کمیٹی لھذا اتجویز کرتی ہے کہ یہ اقل اصولی نصاب پرائمری اور مڈل میں بصورت ذیل ہونا چاہیے۔(الف) قرآن شریف ناظرہ یعنی بغیر ترجمہ کے۔(ب) قرآن شریف کی بعض چھوٹی سورتوں اور بعض قرآنی دعاؤں کا حفظ کرانا۔( ج ) پنج ارکان اسلام یعنی (۱) کلمہ طیبہ (۲) نماز (۳) زکوۃ (۴) حج اور (۵) روزہ کے ایسے بنیادی مسائل جن میں کسی اختلافی خیال کا دخل نہ ہو۔( د ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مختصر سوانح۔( ط ) اسلامی اخلاق پر ایک مختصر رسالہ ( جو تصنیف کرایا جا سکتا ہے ) جس میں راست گفتاری دیانت ، لین دین کی صفائی ، عہد کی پابندی فرض منصبی کی ادائیگی ، محنت قربانی ، عدل وانصاف ، خالق کی محبت، مخلوق کی ہمدردی وغیرہ۔بنیادی اخلاق کے متعلق سہل اور مؤثر طریق میں تعلیم دی گئی ہو۔نوٹ :۔نصاب دینی کے تعلق میں ہماری کمیٹی یہ تجویز پیش کرتی ہے کہ اگر کسی سرکاری سکول میں کسی اقلیت کے طلبا کی تعداد معقول ہوا اور اس اقلیت کی طرف سے یہ مطالبہ ہو کہ اس کے لئے اس کے مذہب کی تعلیم کا نصاب مقرر کیا جائے تو اس کا انتظام بھی ہونا چاہئیے۔مگر یہ نصاب صیغہ تعلیم کا منظور شدہ ہونا چاہئے جو عمومی رنگ کا ہو۔جس میں اس پہلو کو مدنظر رکھا جائے کہ دوسرے مذا ہب پر حملے یا مناظرانہ مسائل نصاب میں داخل نہ ہو جائیں۔(۴) ہماری کمیٹی بڑی سختی کے ساتھ اس بات کو محسوس کرتی ہے کہ گزشتہ زمانہ میں سب سے بڑا فتنہ تاریخ کے نصاب نے پیدا کیا ہے۔جس میں جھوٹی باتوں کو داخل کر کے اور بعض کچی باتوں کو غلط رنگ دے کر اور بہت سی سچی باتوں کو حذف کر کے بھاری فتنہ پیدا کیا گیا ہے۔کمیٹی ہذا سفارش کرتی ہے کہ تاریخ کے نصاب کو فوری طور پر بدلنے کی ضرورت ہے۔حسب ضرورت نئی کتب لکھائی جائیں۔جن میں سے اس قسم کے شر انگیز عصر کو بالکل خارج کر دیا جائے اور صحیح اور مستند واقعات اچھے رنگ میں درج کئے جائیں اور تاریخ کے کورس میں ذیل کے حصے شامل کئے جاویں یعنی (۱) تاریخ ہندستان جس میں اسلامی زمانہ پر زیادہ زور ہو (۲) تاریخ اسلام جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح حیات مسلسل اور مربوط صورت میں درج ہوں اور دیگر اسلامی تاریخ کے صرف خاص خاص واقعات ہوں اور اس کے علاوہ تاریخ عالم پر ایک سرسری نظر ہو۔(۵) کمیٹی ہذا یہ بھی سفارش کرتی ہے کہ تاریخ اور جغرافیہ کے مضمون کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر ایک مضمون کی صورت میں رکھنے کی کوئی خاص وجہ نہیں اور نہ ان میں کوئی ایسا غیر منفک واسطہ ہے