مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 386 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 386

مضامین بشیر ۳۸۶ حضرت میر محمد اسحاق صاحب مرحوم کے بڑے بچے کی شادی دوستوں سے دعا کی تحریک حضرت میر محمد اسحاق صاحب مرحوم کے بڑے صاحبزادے عزیز میر داؤ د احمد سلمہ بی ایس سی کا نکاح کچھ عرصہ ہوا حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی صاحبزادی عزیزہ امتہ الباسط بیگم سلمہا کے ساتھ ہو چکا ہے۔اب ۲۴ / اکتوبر ۱۹۴۸ء بروز اتوار رخصتانہ کی تقریب قرار پائی ہے۔مجھے یقین ہے کہ دوست اس موقع پر خصوصیت سے دعا فرما ئیں گے کہ اللہ تعالیٰ اس شادی خانہ آبادی کو فریقین کے لئے دین و دنیا کے لحاظ سے بابرکت اور مثمر ثمرات حسنہ بنائے اور اس تعلق کو ظاہر و باطن، حال و مستقبل میں اپنی خاص برکتوں کے ساتھ نوازے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو جو ارفع مقام حاصل ہے اور حضور کے متعلق جو خاص عقیدت جماعت کے دلوں میں پائی جاتی ہے اس کی وجہ سے یقیناً ہر مخلص احمدی اس موقع پر دعا کرنا اپنا مقدس فرض سمجھے گا۔لیکن جو مقام حضرت میر صاحب مرحوم کو جماعت میں حاصل تھا اور جس غیر معمولی دینی اور دنیوی خدمت کا انہیں موقع میسر آیا اور جس طرح وہ احباب جماعت کی خوشیوں میں حصہ لیتے اور ان کے بوجھوں کو بٹاتے تھے۔تو اب جب کہ ان کی وفات کے بعد ان کے گھر میں یہ پہلی شادی ہو رہی ہے۔تو میں اس بناء پر بھی امید رکھتا ہوں کہ اس موقع پر جماعت کے دوست اپنی مخصوص دعاؤں میں اس مبارک تقریب کو یا درکھیں گے تا کہ جو کمی ایک دیندار اور محبت کرنے والے باپ کی وفات سے بچوں کے لئے پیدا ہوئی ہے۔وہ اگر خدا چاہے تو دوستوں کی دعاؤں سے پوری ہو جائے۔شادی کا معاملہ عجیب قسم کی نوعیت رکھتا ہے۔اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں قدم اٹھانے والا گویا تاریکی میں قدم اٹھاتا ہے۔اور نہیں جانتا کہ اس کا قدم کسی گڑھے میں گرنے والا ہے یا کہ کسی بلند اور مستحکم چٹان پر پڑنے والا ہے۔اور یہ صرف ہمارے آسمانی آقا کا فضل ہی ہے جو ہر تاریکی کو نور سے بدل سکتا اور ہر قدم کو بلندی کی طرف لے جا سکتا ہے۔میں اکثر اس بات کو سوچا کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو یہ الہام ہوا کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الصِّهْرَ وَ النَّسَبَ تو اس میں صرف قومی شرف کی طرف اشارہ ۱۱۷