مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 383 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 383

۳۸۳ مضامین بشیر ایک نادار خاتون اور ایک عزیز نوجوان نے اپنا قرضہ واپس ادا کر دیا چند دن ہوئے میں نے الفضل میں یہ تحریک کی تھی کہ جن عزیزوں اور دوستوں نے میرے ذریعہ قادیان میں اپنے کاروبار وغیرہ کی ترقی یا دیگر ضرویات کے لئے قرض لیا تھا ، اگر اُن کے حالات میں ذرا بھر بھی اصلاح کی صورت پیدا ہوئی ہے تو اُن کا فرض ہے کہ اپنے قرض خواہوں کا روپیہ واپس ادا فرمائیں۔اور اگر یکمشت ادا نہیں کر سکتے تو کم از کم قسطوں میں ہی ادا کرنا شروع کر دیں اور میں نے خصوصیت کے ساتھ ایسے قرض خواہوں کی سفارش کی تھی جو موجودہ حالات میں سخت تکلیف میں ہیں۔اور اس کے مقابل پر مقروض صاحبان کی حیثیت اُن کی نسبت بہتر ہے۔مجھے خوشی ہے کہ میری اس تحریک پر بعض اصحاب نے اس معاملہ کی طرف توجہ دی ہے۔چنانچہ سب سے پہلے ایک غریب اور نادار عورت نے اپنے قرضہ کی رقم مجھے لا کر دی۔جب میں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری حالت تو بظا ہر اس قابل نظر نہیں آتی تھی کہ تم یہ قرض ادا کرو تو اس نے مجھے مومنانہ انداز میں کہا کہ خدا نے کچھ روپیہ دے دیا تھا جس پر میں نے سمجھا کہ قرضہ کی رقم پہلے ادا کر دینی چاہئے۔اسی طرح ہمارے خاندان کے ایک عزیز نوجوان نے انہیں دنوں میں اپنے قرضہ کی ایک معقول اور بھاری قسط میرے ذریعہ ادا کی ہے۔اور میں حالات کو جانتے ہوئے یقین رکھتا ہوں کہ اس عزیز کو اتنی رقم کا انتظام کرنے میں یقیناً غیر معمولی جد و جہد کرنی پڑی ہوگی۔لیکن چونکہ نیت بخیر تھی ، خدا تعالیٰ نے اس عزیز کو اپنے قرضہ کے بیشتر حصہ کی ادائیگی کی توفیق عطا کر دی۔اللہ تعالیٰ اس عزیز اور اس نادار خاتون کو جزائے خیر دے اور ان کے مالوں اور کاموں میں برکت عطا کرے۔آمین مگر میں دیکھتا ہوں کہ ابھی تک کئی عزیز اور کئی دوست اس مقدس فریضہ کی طرف اتنی توجہ نہیں دے رہے جتنی انہیں دینی چاہئیے۔میں مانتا ہوں کہ حالات تنگی کے ہیں۔اور دینے والے اور لینے والے دونوں بیشتر صورتوں میں سخت تکلیف دہ حالات میں سے گزررہے ہیں۔لیکن بعض کے حالات میں یقیناً اصلاح کی صورت نظر آتی ہے۔اور ایسے اصحاب کی طرف سے سنتی اور غفلت کا برتا جانا یقیناً